Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
209 - 576
تمہارے کام دیکھیں گے کہ تم اپنے اس عہد کو بھی وفا کرتے ہو یا نہیں۔ (1)
{ عٰلِمِ الْغَیۡبِ وَالشَّہٰدَۃِ:غیب اور ظاہر کو جاننے والا ہے۔} یہاں آیت میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت عالم الغیب بیان فرمائی گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وصف ِ خاص ہے یعنی اللہ نے جن مقربینِ بارگاہ کو غیب کا علم عطا فرمایا ہے ان کے بارے میں یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے وہ غیب جانتے ہیں یا غیب پر مطلع ہیں یا غیب پر خبردار ہیں لیکن انہیں عالم الغیب نہیں کہا جاسکتا کہ اس لفظ کا استعمال اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے جیسے لفظ ِ رحمن ہے۔ اس مسئلہ پر عقیدہ ٔاہلسنّت جاننے کیلئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی یہ تحریر ملاحظہ فرمائیں ’’ہماری تحقیق میں لفظ ’’عالم الغیب ‘‘کا اطلاق حضرت عزت عَزَّجَلَالُہ کے ساتھ خاص ہے کہ اُس سے عرفاً علم بالذات متبادر ہے اور اس سے انکار معنی لازم نہیں آتا۔ حضورپر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  قطعاً بے شمار غیوب و ماکان مایکون کے عالم ہیں مگر ’’عالم الغیب‘‘ صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کو کہا جائے گا۔ جس طرح حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قطعاً عزت جلالت والے ہیں ، تمام عالم میں ان کے برابر کوئی عزیز و جلیل ہے نہ ہوسکتا ہے، مگر محمدعَزَّوَجَلَّ کہنا جائز نہیں بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ و محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (کہا جائے گا)۔ (2)
	ایک اور مقام پر فرماتے ہیں ’’علم غیب بالذات اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے خاص ہے کفار اپنے معبود انِ باطل وغیرہم کیلئے مانتے تھے لہٰذا مخلوق کو’’ عالم الغیب ‘‘کہنا مکروہ ، اور یوں (کہنے میں ) کوئی حرج نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے سے امورِ غیب پر انہیں اطلاع ہے۔ (3)
	اور فرماتے ہیں ’’اس پر اجماع ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دیئے سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کثیر و وافر غیبوں کا علم ہے، یہ بھی ضروریاتِ دین سے ہے ،جو اس کا منکر ہوکافر ہے کہ سرے سے نبوت ہی کا منکر ہے۔ اس پر بھی اجماع ہے کہ اس فضلِ جلیل میں محمَّد رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کا حصہ تمام انبیاء و تمام جہان سے اتم و اعظم ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے حبیب اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کو اتنے غیبوں کا علم ہے جن کا شمار اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی جانتا ہے۔(4) 
سَیَحْلِفُوۡنَ بِاللہِ لَکُمْ اِذَا انۡقَلَبْتُمْ اِلَیۡہِمْ لِتُعْرِضُوۡا عَنْہُمْ ؕ فَاَعْرِضُوۡا عَنْہُمْ ؕ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۹۴، ۲/۲۷۲-۲۷۳۔
3…فتاوی رضویہ، ۲۹/۴۰۵۔
3…فتاوی رضویہ، ۳۰/۵۷۵۔
4…فتاوی رضویہ، رسالہ: خالص الاعتقاد، ۲۹/۴۵۱۔