Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
192 - 576
(3)… نیک بندوں کا مذاق اڑانا، انہیں تہمت لگانا، رب تعالیٰ سے مقابلہ کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا بدلہ لیتا ہے۔
اِسْتَغْفِرْ لَہُمْ اَوْ لَاتَسْتَغْفِرْ لَہُمْ ؕ اِنۡ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِیۡنَ مَرَّۃً فَلَنۡ یَّغْفِرَ اللہُ لَہُمْ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَفَرُوۡا بِاللہِ وَرَسُوۡلِہٖ ؕ وَاللہُ لَایَہۡدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۸۰﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہواگر تم ستر بار ان کی معافی چاہو گے  تو اللہ ہرگز انہیں نہیں بخشے گا یہ اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے منکر ہوئے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان: (اے حبیب!) تم ان کی مغفرت کی دعا مانگو یا نہ مانگو، اگر تم ستر بار بھی ان کی مغفرت طلب کرو گے تو اللہ ہرگز ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا ۔یہ اس لیے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا کرتے تھے اوراللہ فاسقوں کوہدایت نہیں دیتا۔ 
{ اِسْتَغْفِرْ لَہُمْ اَوْ لَاتَسْتَغْفِرْ لَہُمْ:(اے حبیب!) تم ان کی مغفرت کی دعا مانگو یا نہ مانگو۔} شانِ نزول: اوپر کی آیتیں جب نازل ہوئیں اور منافقین کا نفاق کھل گیا اور مسلمانوں پر ظاہر ہوگیا تو منافقین سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے معذرت کرکے کہنے لگے کہ آپ ہمارے لئے استغفار کیجئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہر گز ان کی مغفرت نہ فرمائے گا چاہے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ استغفار میں مبالغہ کریں۔ (1)
{ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَفَرُوۡا بِاللہِ وَرَسُوۡلِہٖ:یہ اس لیے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا کرتے تھے۔} اس آیت میں منافقوں کو نہ بخشنے کی وجہ بیان فرمائی گئی کہ وہ اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے منکر ہیں اور جو اِن کا منکر ہو اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اس کے لئے اپنی رحمتِعامہ کی بنا پردعا بھی کردیں ، تب بھی 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۰، ۲/۲۶۶۔