فِی الصَّدَقٰتِ وَالَّذِیۡنَ لَایَجِدُوۡنَ اِلَّا جُہۡدَہُمْ فَیَسْخَرُوۡنَ مِنْہُمْ ؕ سَخِرَ اللہُ مِنْہُمْ ۫ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ ان کے دل کی چھپی اور ان کی سرگوشی کو جانتا ہے اور یہ کہ اللہ سب غیبوں کا بہت جاننے والا ہے۔ وہ جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے تو ان سے ہنستے ہیں اللہ ان کی ہنسی کی سزا دے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ اللہ ان کے دل کی ہرچھپی بات اور ان کی ہر سرگوشی کو جانتا ہے اور یہ کہ اللہسب غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اور وہ جو دل کھول کر خیرات دینے والے مسلمانوں پر اور ان پر جو اپنی محنت مشقت کی بقدر ہی پاتے ہیں عیب لگاتے ہیں پھر ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو اللہ انہیں ان کے مذاق اڑانے کی سزا دے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
{ اَلَمْ یَعْلَمُوۡۤا:کیا انہیں معلوم نہیں تھا ۔} یعنی ان منافقین کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ پر کچھ مخفی نہیں ، وہ ان کے دلوں کی بات بھی جانتا ہے اور جو آپس میں وہ ایک دوسرے سے کہیں وہ بھی جانتا ہے اور جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی شان یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے تو ان کا حال اللہ تعالیٰ سے کیسے مخفی رہ سکتا تھا۔ (1)
{ اَلَّذِیۡنَ یَلْمِزُوۡنَ:وہ جو عیب لگاتے ہیں۔} شانِ نزول :جب آیتِ صدقہ نازل ہوئی تو لوگ صدقہ لائے، ان میں بعض بہت زیادہ مال لائے انہیں تو منافقین نے ریا کار کہا اور کوئی تھوڑا سا مال لے کر آیا تو منافقین نے ان کے متعلق کہا: اللہ تعالیٰ کو اس کی کیا پرواہ، (یعنی اتنا تھوڑا دینے کا کیا فائدہ۔) اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ جب رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے لوگوں کو صدقہ کی رغبت دلائی تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ چار ہزار درہم لائے اور عرض کیا: یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، میرا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۷۸، ۲/۲۶۵۔