راضی ہوں اور اسے نیک اعمال کی توفیق ملے ۔ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی سے راضی ہوتا ہے تو فر شتوں میں اعلان ہوتا ہے کہ ہم اس سے راضی ہیں تم بھی اس سے راضی ہو جاؤ پھر تما م زمین والوں کے دلوں میں اس کی محبت پڑ جا تی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو ند اکی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَاماس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام آسمانی مخلوق میں ندا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت فرماتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ، پھر زمین والوں (کے دلوں ) میں اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ (1)
اس سے معلوم ہوا کہ بزر گا نِ دین کی طرف دلو ں کا مائل ہونا ان کے محبوبِ الٰہی ہونے کی علامت ہے ۔
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ جٰہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیۡنَ وَاغْلُظْ عَلَیۡہِمْ ؕ وَمَاۡوٰىہُمْ جَہَنَّمُ ؕ وَبِئْسَ الْمَصِیۡرُ ﴿۷۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے غیب کی خبریں دینے والے (نبی) جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پر اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے غیب کی خبریں دینے والے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور کتنی بری پلٹنے کی جگہ ہے۔
{ یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ:اے غیب کی خبریں دینے والے نبی!} اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکا نام لے کر نہ پکارا جائے بلکہ اچھے القاب سے پکارا جائے جب خداوند ِ قدوس عَزَّوَجَلَّ ان کو نام لے کر نہیں پکارتا تو ہم کس شمار میں ہیں۔ ایک مقام پر اللہتعالیٰ واضح طور پرفرماتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ، ۲/۳۸۲، الحدیث: ۳۲۰۹۔