Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
170 - 576
{ اِنۡ نَّعْفُ عَنۡ طَآئِفَۃٍ مِّنۡکُمْ:اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کر (بھی) دیں۔}  یعنی اگر ہم تم میں سے کسی کو اس کے توبہ کرنے اور اخلاص کے ساتھ ایمان لانے کی وجہ سے معاف کر بھی دیں تو توبہ نہ کرنے والے گروہ کو ضرور عذاب دیں گے۔ (1) 
	 حضرت محمد بن اسحٰق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا قول ہے کہ یہاں جس شخص کی معافی کی بات ہورہی ہے اس سے وہی شخص مراد ہے جو ہنستا تھا مگر اس نے اپنی زبان سے کوئی گستاخی کا کلمہ نہ کہا تھا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس نے توبہ کی اور اخلاص کے ساتھ ایمان لایا۔ اس نے دعا کی کہ یارب! عَزَّوَجَلَّ، مجھے اپنی راہ میں مقتول کرکے ایسی موت دے کہ کوئی یہ کہنے والا نہ ہو کہ میں نے غسل دیا، میں نے کفن دیا، میں نے دفن کیا ۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے اور ان کا پتہ ہی نہ چلا۔ ان کا نام حضرت یحیٰ بن حمیر اشجعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھا اور چونکہ انہوں نے حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بدگوئی سے زبان روکی تھی اس لئے انہیں توبہ و ایمان کی توفیق ملی ۔ (2)
اَلْمُنٰفِقُوۡنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُہُمۡ مِّنۡۢ بَعْضٍ ۘ یَاۡمُرُوۡنَ بِالْمُنۡکَرِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوۡفِ وَیَقْبِضُوۡنَ اَیۡدِیَہُمْ ؕ نَسُوا اللہَ فَنَسِیَہُمْ ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ ہُمُ الْفٰسِقُوۡنَ ﴿۶۷﴾ وَعَدَ اللہُ الْمُنٰفِقِیۡنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْکُفَّارَ نَارَجَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ ہِیَ حَسْبُہُمْ ۚ وَلَعَنَہُمُ اللہُ ۚ وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿ۙ۶۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: منافق مرد اور منافق عورتیں ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں برائی کا حکم دیں اور بھلائی سے منع کریں اور اپنی مٹھی بند رکھیں وہ اللہ کو چھوڑ بیٹھے تو اللہ نے انہیں چھوڑ دیا بیشک منافق وہی پکے بے حکم ہیں۔ اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں کو جہنم کی آگ کا وعدہ دیا ہے جس میں ہمیشہ رہیں گے وہ انہیں بس ہے اوراللہ کی ان پر لعنت 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۶۶، ص۴۴۳۔
2…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۶۶، ۲/۲۵۸۔