Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
166 - 576
(3)… حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تَوہین اللہ تعالیٰ کی توہین ہے کیونکہ ان منافقوں نے حضوراکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی توہین کی تھی مگر فرمایا ’’ اَبِاللہِ وَاٰیٰتِہٖ وَرَسُوۡلِہٖ‘‘ یعنی حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکا مذاق اڑانا اللہ تعالیٰ اور اس کی تمام آیتوں کا مذاق اڑانا ہے۔ لہٰذا تاجدارِرسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی تعظیم اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے۔ 
لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمٰنِکُمْ ؕ اِنۡ نَّعْفُ عَنۡ طَآئِفَۃٍ مِّنۡکُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَۃًۢ بِاَنَّہُمْ کَانُوۡا مُجْرِمِیۡنَ ﴿۶۶﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: بہانے نہ بنا ؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کریں تو اوروں کو عذاب دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم تھے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: بہانے نہ بنا ؤ تم ایمان ظاہر کرنے کے بعد کافر ہوچکے ۔ اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کر دیں تو دوسروں کو عذاب دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہیں۔
{ لَاتَعْتَذِرُوۡا :بہانے نہ بنا ؤ۔} اللہ تعالیٰ نے منافقین کی جانب سے پیش کردہ عذر و حیلہ قبول نہ کیا اور ان کے لئے یہ فرمایا کہ بہانے نہ بنا ؤ تم ایمان ظاہر کرنے کے بعد کافر ہوچکے ۔ (1)
 آیت’’ لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمٰنِکُمْ ‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت سے معلوم ہو اکہ ایمان ایسی چیز نہیں کہ جو دنیا میں کبھی کسی سے ختم ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے پہلے ان کے ایمان کا ذکر فرمایا پھر ان کا ایمان ختم ہو جانے کا ذکر فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں مسلمان ہونے کے بعد کوئی کافر ہو سکتاہے ۔
	 یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ کسی کو کافر قرار دینے کا اختیار اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے لہٰذا 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۶۶، ۲/۲۵۷، ملخصاً