سوال حلال نہیں۔ ہاں بن مانگے اگر کوئی اسے زکوٰۃ دے تو وہ لے سکتا ہے اور مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو اور ایسا شخص سوال بھی کرسکتا ہے۔
(3)… عامِلین وہ لوگ ہیں جن کو حاکمِ اسلام نے صدقے وصول کرنے پر مقرر کیا ہو۔
(4)… اگر عامل غنی ہو تو بھی اس کو لینا جائز ہے۔
(5)… عامل سید یا ہاشمی ہو تو وہ زکوٰۃ میں سے نہ لے۔
(6)…گردنیں چھڑانے سے مراد یہ ہے کہ جن غلاموں کو ان کے مالکوں نے مُکَاتَبْ کردیا ہو اور ایک مقدار مال کی مقرر کردی ہو کہ اس قدر وہ ادا کردیں تو آزاد ہیں ، وہ بھی مستحق ہیں ، ان کو آزاد کرانے کے لئے مالِ زکوٰۃ دیا جائے۔
(7)…قرضدار جو بغیر کسی گناہ کے مبتلائے قرض ہوئے ہوں اور اتنا مال نہ رکھتے ہوں جس سے قرض ادا کریں انہیں ادائے قرض میں مالِ زکوٰۃ سے مدد دی جائے۔
(8)…اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کرنے سے بے سامان مجاہدین اور نادار حاجیوں پر صَرف کرنا مراد ہے۔
(9)…اِبنِ سبیل سے وہ مسافر مراد ہے جس کے پاس اُس وقت مال نہ ہو۔
(10)… زکوٰۃ دینے والے کو یہ بھی جائز ہے کہ وہ ان تمام اَقسام کے لوگوں کو زکوٰۃ دے اور یہ بھی جائز ہے کہ ان میں سے کسی ایک ہی قسم کو دے۔
(11)… زکوٰۃ انہیں لوگوں کے ساتھ خاص کی گئی لہٰذاان کے علاوہ اور دوسرے مَصرف میں خرچ نہ کی جائے گی، نہ مسجد کی تعمیر میں ،نہ مردے کے کفن میں ،نہ اس کے قرض کی ا دا ئیگی میں۔
(12)… زکوٰۃ بنی ہاشم اور غنی اور ان کے غلاموں کو نہ دی جائے اور نہ آدمی اپنی بیوی اور اولاد اور غلاموں کو دے (1)۔(2)
وَمِنْہُمُ الَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ النَّبِیَّ وَیَقُوۡلُوۡنَ ہُوَ اُذُنٌ ؕ قُلْ اُذُنُ خَیۡرٍ لَّکُمْ یُؤْمِنُ بِاللہِ وَیُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ وَرَحْمَۃٌ لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ ؕ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرات احمدیہ، براء ۃ، تحت الآیۃ: ۶۰، ص۴۶۶-۴۶۸، مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۶۰، ص۴۴۱، ملتقطاً۔
2…زکوٰۃ کے مصارف اورزکوٰۃ سے متعلق مزید مسائل جاننے کے لئے کتاب’’فتاویٰ اہلسنت(زکوٰۃ کے احکام) ‘‘ اور ’’فیضانِ زکوٰۃ ‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ) کا مطالعہ فرمائیں ۔