Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
158 - 576
’’ لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوۡنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللہِ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:آدمی کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے بدل بدل کر باری باری آنے والے فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ 
اور ارشاد فرمایا
 ’’وَ یُرْسِلُ عَلَیۡکُمۡ حَفَظَۃً ‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔
(5)…اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کے ساتھ صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو ملا کر کفایت کرنے والا فرمایا
’’ یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ ‘‘ (3)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے نبی! اللہ تمہیں کافی ہے اور جو مسلمان تمہارے پیروکار ہیں۔ 
	مشورہ:اس بارے میں مزید تفصیل کے لئے فتاویٰ رضویہ کی 30ویں جلد میں موجود رسالہ ’’اَلْاَمْنُ وَالْعُلٰی لِنَاعِتِی الْمُصْطَفٰی بِدَافِعِ الْبَلَائِ‘‘(مصطفی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو دافع البلاء یعنی بلائیں دور کرنے والاکہنے والوں کیلئے انعامات) کا مطالعہ کیجئے۔
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیۡنِ وَ الْعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوۡبُہُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیۡنَ وَفِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِیۡلِ ؕ فَرِیۡضَۃً مِّنَ اللہِ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۶۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لیے ہے محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے  اور گردنیں چھوڑانے میں  اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ میں  اور مسافر کو  یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا  اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…الرعد :۱۱۔
2…انعام:۶۱۔
3…انفال:۶۴۔