لہٰذا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کیا جائے تو خوش دلی سے خرچ کیا جائے۔
فَلَا تُعْجِبْکَ اَمْوٰلُہُمْ وَلَاۤ اَوْلٰدُہُمْ ؕ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ بِہَا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَتَزْہَقَ اَنۡفُسُہُمْ وَہُمْ کٰفِرُوۡنَ ﴿۵۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو تمہیں ان کے مال اور ان کی اولاد کا تعجب نہ آئے اللہ یہی چاہتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ان چیزوں سے ان پر وبال ڈالے اور کفر ہی پر ان کا دم نکل جائے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو تمہیں ان کے مال اور ان کی اولاد تعجب میں نہ ڈالیں ،اللہ یہی چاہتا ہے کہ اِن چیزوں کے ذریعے دنیا کی زندگی میں اِن سے راحت و آرام دور کردے اور کفر کی حالت میں اِن کی روح نکلے۔
{ فَلَا تُعْجِبْکَ اَمْوٰلُہُمْ وَلَاۤ اَوْلٰدُہُمْ:تو تمہیں ان کے مال اور ان کی اولاد تعجب میں نہ ڈالیں۔} اس آیت میں خطاب اگرچہ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ساتھ ہے لیکن اس سے مراد مسلمان ہیں اور آیت کا معنی یہ ہے کہ تم ان منافقوں کی مالداری اور اولاد پر یہ سوچ کر حیرت نہ کرو کہ جب یہ مردود ہیں تو انہیں اتنا مال کیوں ملا ۔ اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ ان چیزوں کے ذریعے دنیا کی زندگی میں ان سے راحت و آرام دور کردے کہ محنت سے جمع کریں ، مشقت سے اس کی حفاظت کریں اور حسرت چھوڑ کر مریں۔ (1)
{ لِیُعَذِّبَہُمۡ بِہَا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا:کہ اِن چیزوں کے ذریعے دنیا کی زندگی میں اِن سے راحت و آرام دور کردے۔} منافقوں پر مال کے ذریعے دُنْیَوی زندگی میں ڈالے جانے والے وبال کا کچھ ذکر اوپر ہوا ،اس کا مزید وبال یہ پڑے گا کہ مال خرچ کرنے کے معاملے میں ان کا دل تنگ ہو گا اور وہ (راہِ خدا) میں مال خرچ کرنا پسند نہ کریں گے جبکہ اولاد کے ذریعے ان پر دنیا میں یہ وبال آئے گا کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کرنے میں طرح طرح کی مشقتوں میں پڑیں گے، ان کے کھانے پینے اور لباس وغیرہ کا انتظام کرنے میں پریشانیوں کا سامنا کریں گے اور وہ مر جائیں تو یہ ان کی جدائی پر انتہائی رنج وغم میں مبتلا ہوں گے۔ (2)اور جب یہ مریں گے تو ان کی روح کفر کی حالت میں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۵۵، ۲/۲۴۹۔
2…روح البیان، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۵۵، ۳/۴۴۹۔