Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
147 - 576
 حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَامنے کہا، یہ وہ راستہ ہے کہ رضا ئے الٰہی عَزَّوَجَلَّتک رسائی کیلئے اس سے بہتر کوئی راہ نہیں۔(1) 
قُلْ ہَلْ تَرَبَّصُوۡنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَی الْحُسْنَیَیۡنِ ؕ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمْ اَنۡ یُّصِیۡبَکُمُ اللہُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنۡدِہٖۤ اَوْ بِاَیۡدِیۡنَا ۫ۖ فَتَرَبَّصُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمۡ مُّتَرَبِّصُوۡنَ ﴿۵۲﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ تم ہم پر کس چیز کا انتظار کرتے ہو مگر دو خوبیوں میں سے ایک کا اور ہم تم پر اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تم پر عذاب ڈالے اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں تو اب راہ دیکھو ہم بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہے ہیں۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ، تم ہمارے اوپر دو اچھی خوبیوں میں سے ایک کا انتظار کررہے ہو اور ہم تم پر انتظار کررہے ہیں کہ اللہ تمہیں اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سے عذاب دے توتم انتظار کرو اور ہم (بھی) منتظر ہیں۔
{ اِحْدَی الْحُسْنَیَیۡنِ:دو اچھی خوبیوں میں سے ایک کا۔} اس آیت میں مسلمانوں کو پہنچنے والی مصیبتوں پر منافقوں کو ہونے والی خوشی کا ایک اور جواب دیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ ان منافقوں سے فرما دیں کہ اے منافقو! تم ہمارے اوپر دو اچھی خوبیوں میں سے ایک کا انتظار کررہے ہو کہ ہمیں یا تو فتح و غنیمت ملے گی یا شہادت و مغفرت کیونکہ مسلمان جب جہاد میں جاتا ہے تو وہ اگر غالب ہو جب تو فتح و غنیمت او راجرِ عظیم پاتا ہے اور اگر راہِ خدا میں مارا جائے تو اس کو شہادت حاصل ہوتی ہے جو اس کی اعلیٰ مراد ہے اور ہم تم پر دو برائیوں میں سے ایک کا انتظار کررہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سابقہ اُمتوں کی طرح تمہیں بھی اپنی طرف سے عذاب دے کر ہلاک کر دے یا ہمیں تم پر کامیابی و غلبہ عطا کر کے ہمارے ہاتھوں سے تمہیں عذاب دے اور جب یہ بات ہے توتم ہمارے انجام کا انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے انجام کے منتظر ہیں۔ (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…روض الریاحین، الحکایۃ السادسۃ والثلاثون بعد الثلاث مائۃ، ص۲۸۱۔
2…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۵۲، ۲/۲۴۸، روح البیان، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۵۲، ۳/۴۴۷، ملتقطاً۔