Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
135 - 576
وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے انہیں جہاد میں شامل نہ ہونے کی اجازت کیوں دی حتّٰی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو پتا چل جاتا کہ اپنے عذر میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔ (1)
لَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیۡنَ یُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ اَنۡ یُّجٰہِدُوۡا بِاَمْوٰلِہِمْ وَ اَنۡفُسِہِمْ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌۢ بِالْمُتَّقِیۡنَ ﴿۴۴﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں  تم سے چھٹی نہ مانگیں گے اس سے کہ اپنے مال اور جان سے جہاد کریں اور اللہ خوب جا نتا ہے پرہیزگا روں کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو لوگ اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں وہ آپ سے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے سے بچنے کی چھٹی نہیں مانگیں گے اور اللہ پرہیزگا روں کوخوب جا نتا ہے ۔
{ یُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ:اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔}مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اللہ (عَزَّوَجَلَّ) پر ایمان رکھنے میں رسولُ اللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ)پر ایمان رکھنا بھی داخل ہے کیونکہ ایمان سے مراد ایمانِ صحیح ہے، وہ وہی ہے جو رسول کے ساتھ ہو ورنہ اللہ  (عَزَّوَجَلَّ)کو منافق بھی مانتے تھے۔(2)  
حضرت عمرو بن جموح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا جذبۂ شہادت
	اس سے معلوم ہوا کہ جہاد کے موقع پر معذرتیں کرنا منافقت کی علامت تھی جبکہ کامل ایمان والے ہر کڑی آزمائش میں پورے اترتے ہیں اور جہاد جیسے سخت موقع پر بھی دل و جان اور مال کے ساتھ حاضر ہونے کو تیار رہتے ہیں۔ اس بارے میں ایک واقعہ تو چند آیات کے بعد آرہا ہے اور ایک واقعہ غزوۂ اُحد کے موقع پر جہاد کی رغبت کا بیان کیا جاتا ہے۔ حضرت عمرو بن جموح انصاری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ لنگڑے تھے، یہ گھرسے نکلتے وقت یہ دعا مانگ کر چلے تھے کہ یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، مجھے میدانِ جنگ سے اپنے اہل و عیال میں آنا نصیب نہ کرنا، ان کے چار بیٹے بھی جہاد میں مصروف تھے۔ لوگوں نے ان کو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیر سمرقندی، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۴۳، ۲/۵۳۔
2…نورالعرفان،التوبۃ، تحت الآیۃ: ۴۴، ص۳۰۹ ۔