لَوْکَانَ عَرَضًا قَرِیۡبًا وَّسَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوۡکَ وَلٰکِنۡۢ بَعُدَتْ عَلَیۡہِمُ الشُّقَّۃُ ؕ وَسَیَحْلِفُوۡنَ بِاللہِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَکُمْ ۚ یُہۡلِکُوۡنَ اَنۡفُسَہُمْ ۚ وَاللہُ یَعْلَمُ اِنَّہُمْ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۴۲﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اگر کوئی قریب مال یا متوسط سفر ہوتا تو ضرور تمہارے ساتھ جاتے مگر ان پر تو مشقت کا راستہ دور پڑ گیا اور اب اللہ کی قسم کھائیں گے کہ ہم سے بن پڑتا تو ضرور تمہارے ساتھ چلتے اپنی جانو ں کو ہلاک کرتے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ وہ بیشک ضرور جھوٹے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر آسانی سے ملنے والا مال ہوتا اور درمیانہ سا سفر ہوتا تو وہ ضرور تمہارے پیچھے چلتے لیکن مشقت والا سفر ان پر بہت دور پڑگیا اور اب اللہ کی قسم کھائیں گے کہ ہمیں طاقت ہوتی تو ہم آپ کے ساتھ ضرور نکلتے ۔ یہ اپنے آپ کو ہلاک کررہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ بیشک جھوٹے ہیں۔
{ لَوْکَانَ عَرَضًا قَرِیۡبًا:اگر آسانی سے ملنے والا مال ہوتا۔} یعنی تبوک کا میدان اگر قریب ہوتا اور غنیمت آرام سے مل جانے کی امید ہوتی تو یہ بہانے بنانے والے منافق ضرور ان مَنافع کے حصول کے لالچ میں جہاد میں شریک ہوجاتے لیکن دور کے سفر اور رومیوں سے جنگ کو عظیم جاننے کی وجہ سے یہ پیچھے رہ گئے۔ (1)
آیت’’لَوْکَانَ عَرَضًا قَرِیۡبًا‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس سے معلوم ہوا کہ دین میں ضروری مشقت سے گھبرانا اور اگرچہ فرض و واجب ترک ہوجائے لیکن صرف آسان کام ہی اختیار کرنا منافقوں کی علامت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاد میں منافقین بھی جاتے تھے مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے نہیں بلکہ مالِ غنیمت کے لالچ میں جاتے تھے ۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اتباع وہ چاہیے جو قلبی محبت کے ساتھ ہو، دنیاوی لالچ یا سزا کے خوف سے تو منافق بھی اتباع کر لیتے تھے۔ اس لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا کہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۴۲، ۲/۲۴۵۔