Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
109 - 576
 ’’ تین چیزیں ایسی ہیں کہ مومن کا دل ان پر خیانت نہیں کرتا (1) اللہ تعالیٰ کے لیے عمل خالص کرنا۔ (2 ) علماء کی اطاعت کرنا اور (3) (مسلمانوں کی) جماعت کو لازم پکڑنا ۔ (1) 
(3)… حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، سرورِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ علم سیکھو اور لوگوں کو سکھائو ، فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھائو ،قرآن سیکھو اور لوگوں کو سکھائو۔ میں وفات پانے والا ہوں علم عنقریب اٹھ جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے حتّٰی کہ دو شخص ایک فریضہ میں جھگڑیں گے اور ایسا کوئی شخص نہ پائیں گے جو ان میں فیصلہ کردے۔ (2)
یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّطْفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللہِ بِاَفْوٰہِہِمْ وَیَاۡبَی اللہُ اِلَّاۤ اَنۡ یُّتِمَّ نُوۡرَہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوۡنَ ﴿۳۲﴾ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرْسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالْہُدٰی وَ دِیۡنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ۙ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوۡنَ ﴿۳۳﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ نہ مانے گا مگر اپنے نور کا پورا کرنا پڑے برا مانیں کافر۔ وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا  کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے پڑے برا مانیں مشرک ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ سے اللہ کا نوربجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کئے بغیر نہ مانے گا اگرچہ کافر ناپسند کریں۔ وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرک ناپسند کریں۔ 
{ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّطْفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللہِ بِاَفْوٰہِہِمْ:یہ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ سے اللہ کا نوربجھا دیں۔} اس آیت میں نور سے مراددینِ اسلام یا سرکار ِدو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت کے دلائل ہیں اور نور بجھانے سے مراد حضورپُرنور 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…مسند امام احمد، مسند المدنیین، حدیث جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ، ۵/۶۱۵، الحدیث: ۱۶۷۳۸۔
2…دارمی، باب الاقتداء بالعلماء، ۱/۸۳، الحدیث: ۲۲۱۔