Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
106 - 576
نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بیٹا کہہ دیا۔ حضرت حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہودیوں اور عیسائیوں کے کفر کو گزشتہ کافر امتوں کے کفر سے تشبیہ دی ہے۔ (1) 
اِتَّخَذُوۡۤا اَحْبَارَہُمْ وَرُہۡبٰنَہُمْ اَرْبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ وَالْمَسِیۡحَ ابْنَ مَرْیَمَ ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوۡۤا اِلٰـہًا وّٰحِدًا ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوۡنَ ﴿۳۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: انہوں نے اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اللہ کے سوا خدا بنالیا اور مسیح ابنِ مریم کو اور انہیں حکم نہ تھا مگر یہ کہ ایک اللہ کو پوجیں  اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اسے پاکی ہے ان کے شرک سے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: انہوں نے اپنے پادریوں اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنالیا اور مسیح بن مریم (کوبھی ) حالانکہ انہیں صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایک معبود کی عبادت کریں ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ان کے شرک سے پاک ہے۔
{ اِتَّخَذُوۡۤا اَحْبَارَہُمْ وَرُہۡبٰنَہُمْ اَرْبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ:انہوں نے اپنے پادریوں اور درویشوں کو اللہ کے سوارب بنالیا۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہودیوں نے اپنے پادریوں اور درویشوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا رب بنالیا کہ حکمِ الٰہی کو چھوڑ کر ان کے حکم کے پابند ہوئے اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو خدا بنایا اور ان کی نسبت یہ باطل عقیدہ رکھا کہ وہ خدا یا خدا کے بیٹے ہیں یا خدا نے ان میں حُلول کیا ہے حالانکہ انہیں ان کی کتابوں میں اور ان کے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف سے صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایک معبود کی عبادت کریں ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اوروہ ان کے شرک سے پاک ہے۔ (2)
	یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے پادریوں اور علماء کو معبود بنا کر ان کی کوئی باقاعدہ عبادت نہیں کی تھی بلکہ خدا کے حکم کو چھوڑ کر ان کے حکم کو اپنے لئے شریعت بنالیا تھا اور اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے خدا بنالئے چنانچہ پادریوں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۳۰، ۲/۲۳۲۔
2…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۳۱، ۲/۲۳۳، ملخصاً۔