(4)…ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو اس کے روزے کا کفارہ اپنے پاس سے عطا فرما کر اسے اپنی ہی ذات اور اہلِ خانہ پر خرچ کرنے کی اجازت عطا فرما دی۔ (1)
(5)…حضرت علی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے لئے حالتِ جنابت میں مسجد میں داخل ہونا حلال فرما دیا۔ (2)
مزید تفصیلی معلومات کے لئے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا فتاویٰ رضویہ کی 30ویں جلد میں رسالہ ’’اَلْاَمْنُ وَالعُلٰی لِنَاعِتِی الْمُصْطَفٰی بِدَافِعِ الْبَلَاءِ‘‘(مصطفی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو دافع البلاء یعنی بلائیں دور کرنے والا کہنے والوں کیلئے انعامات) کا مطالعہ فرمائیں
{ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ:حتّٰی کہ وہ جزیہ دیں۔} اس آیت میں اہلِ کتاب سے جزیہ لینے کا ذکر ہوا ۔اسلامی سلطنت کی جانب سے ذمی کافروں پر جو (مال) مقرر کیا جاتا ہے اسے جزیہ کہتے ہیں۔ عرب کے مشرکین سے جزیہ قبول نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کیلئے دو ہی صورتیں ہیں قبولِ اسلام یا جنگ۔ بقیہ دنیا بھر کے کافروں سے جزیہ پر صلح ہوسکتی ہے۔
وَقَالَتِ الْیَہُوۡدُ عُزَیۡرُۨ ابْنُ اللہِ وَقَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیۡحُ ابْنُ اللہِ ؕ ذٰلِکَ قَوْلُہُمۡ بِاَفْوٰہِہِمْ ۚ یُضَاہِـُٔوۡنَ قَوْلَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَبْلُ ؕ قٰتَلَہُمُ اللہُ ۚ اَنّٰی یُؤْفَکُوۡنَ ﴿۳۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور یہودی بولے عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی بولے مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ باتیں وہ اپنے منہ سے بکتے ہیں اگلے کافرو ں کی سی بات بناتے ہیں اللہ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہودیوں نے کہا: عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور عیسائیوں نے کہا: مسیح اللہ کا بیٹا ہے ۔ یہ ان کی اپنے منہ سے کہی ہوئی بات ہے ، یہ پہلے کے کافروں جیسی بات کرتے ہیں۔ اللہ انہیں مارے ،کہاں اوندھے جاتے ہیں ؟
{ وَقَالَتِ الْیَہُوۡدُ:اور یہودیوں نے کہا۔} اس سے پہلی آیت میں اللہتعالیٰ نے اہلِ کتاب کی بے دینی کا ذکر فرمایا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب الصوم، باب اذا جامع فی رمضان۔۔۔ الخ، ۱/۶۳۸، الحدیث: ۱۹۳۶۔
2…ترمذی، کتاب المناقب، ۲۰-باب، ۵/۴۰۸، الحدیث: ۳۷۴۸۔