Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
99 - 558
اِنَّمَا یَسْتَجِیۡبُ الَّذِیۡنَ یَسْمَعُوۡنَ ؕؔ وَ الْمَوْتٰی یَبْعَثُہُمُ اللہُ ثُمَّ اِلَیۡہِ یُرْجَعُوۡنَ ﴿۳۶﴾؃ 
ترجمۂکنزالایمان: مانتے تو وہی ہیں جو سنتے ہیں اور ان مردہ دلوں کو اللہ اٹھائے گا پھر اس کی طرف ہانکے جائیں گے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: صرف وہ لوگ مانتے ہیں جو سنتے ہیں اور اللہ ان مردہ دلوں کو اٹھائے گا پھر اس کی طرف انہیں لوٹایا جائے گا۔ 
{ اِنَّمَا یَسْتَجِیۡبُ الَّذِیۡنَ یَسْمَعُوۡنَ: صرف وہ لوگ مانتے ہیں جو سنتے ہیں۔}ارشاد فرمایا کہ صرف وہ لوگ مانتے ہیں جو توجہ اور غور وفکر کے ساتھ دل لگا کر سمجھنے کیلئے سنتے ہیں جبکہ یہ کفار تو مردہ دل ہیں یہ کیا مانیں گے ۔آخرت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ ان دل کے مردوں کو اٹھائے گا اورپھر اسی کی طرف انہیں لوٹایا جائے گا اوریہ اپنے اعمال کی جزا پائیں گے۔ وعظ و نصیحت کا اثر بھی تبھی ہوتا ہے جب آدمی ماننے اور عمل کرنے کے جذبے کے ساتھ توجہ کے ساتھ سنے ورنہ بے توجہی سے سننے کا نتیجہ عام طور پر کچھ بھی برآمد نہیں ہوتا۔
وَ قَالُوۡا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ قُلْ اِنَّ اللہَ قَادِرٌ عَلٰۤی اَنۡ یُّنَزِّلَ اٰیَۃً وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوۡنَ ﴿۳۷﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور بولے ان پر کوئی نشانی کیوں نہ اتری ان کے رب کی طرف سے تم فرماؤ کہ اللہ قادر ہے کہ کوئی نشانی اتارے لیکن ان میں بہت نرے جاہل ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کہا: ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی؟ تم فرمادو کہ بیشک اللہ کسی نشانی کے اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ بے علم ہیں۔