حضرت فضیل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’مجھے اس شخص پر تعجب نہیں ہوتا جو عمارت بنا کر چھوڑ جاتا ہے بلکہ اس پر تعجب ہوتا ہے جو اس عمارت کو دیکھ کر عبرت حاصل نہیں کرتا۔ (1)
حضرت وہیب مکی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’کسی شخص کے لئے یہ بات کیسے مناسب ہے کہ وہ دنیا میں ہنسے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے سامنے قیامت کے دن کی فریادیں ، گردشیں اور خوفناک مَناظر ہیں ، قریب ہے کہ سخت رعب اور خوف سے اس کے جسم کے جوڑ کٹ جائیں۔ (2)
قَدْ خَسِرَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ اللہِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَتْہُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً قَالُوۡا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰی مَا فَرَّطْنَا فِیۡہَا ۙ وَ ہُمْ یَحْمِلُوۡنَ اَوْزَارَہُمْ عَلٰی ظُہُوۡرِہِمْ ؕ اَلَاسَآءَ مَا یَزِرُوۡنَ ﴿۳۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک ہار میں رہے وہ جنہوں نے اپنے رب سے ملنے کا انکار کیا یہاں تک کہ جب ان پر قیامت اچانک آگئی بولے ہائے افسوس ہمارا اس پر کہ اس کے ماننے میں تقصیر کی اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہیں ارے کتنا برُا بوجھ اٹھائے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ان لوگوں نے نقصان اٹھایا جنہوں نے اپنے رب سے ملنے کو جھٹلایا یہاں تک کہ جب ان پر اچانک قیامت آئے گی تو کہیں گے : ہائے افسوس اس پر جو ہم نے اس کے ماننے میں کوتاہی کی اور وہ اپنے گناہوں کے بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہوں گے ۔ خبردار، وہ کتنا برا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔
{ قَدْ خَسِرَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ اللہِ:بیشک ان لوگوں نے نقصان اٹھایا جنہوں نے اپنے رب سے ملنے کو جھٹلایا ۔} یعنی جن کافروں نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور قیامت کے دن اعمال کے حساب کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کو جھٹلایا تو انہوں نے اپنی جانوں کا ہی نقصان کیا کہ وہ لازوال نعمتوں کے گھر جنت سے محروم ہو جائیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…احیاء العلوم، کتاب الفقر والزہد، بیان تفصیل الزہد فیما ہو من ضروریات الحیاۃ، ۴/۲۹۲۔
2…تنبیہ المغترین، الباب الثانی فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم ظنہم بنفسہم الہلاک۔۔۔ الخ، ص۱۰۹۔