اور میری ماں کو معبود بنالو؟ تووہ عرض کریں گے: (اے اللہ!) تو پاک ہے۔ میرے لئے ہرگز جائز نہیں کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی توتجھے ضرور معلوم ہوتی۔تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے۔ بیشک تو ہی سب غیبوں کا خوب جاننے والا ہے۔
{ وَ اِذْ قَالَ اللہُ:اور جب اللہ فرمائے گا۔} یہ بھی قیامت کے واقعے کا بیان ہے کہ بروزِ قیامت عیسائیوں کی سرزنش کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے فرمائے گا کہ’’ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ!کیاتم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو؟ اس خطاب کو سن کر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کانپ جائیں گے اورعرض کریں گے: اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ تو تمام نَقائص و عُیوب سے پاک ہے اور اس سے بھی کہ کوئی تیرا شریک ہوسکے ۔ میرے لئے ہرگز جائز نہیں کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں یعنی جب کوئی تیرا شریک نہیں ہوسکتا تو میں یہ لوگوں سے کیسے کہہ سکتا تھا؟ اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی توتجھے ضرور معلوم ہوتی۔ تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے۔ بیشک تو ہی سب غیبوں کا خوب جاننے والا ہے۔ یہاں علم کو اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرنا اور معاملہ اس کے سپرد کردینا اور عظمت ِالٰہی کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرنا یہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شانِ ادب ہے۔
مَا قُلْتُ لَہُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیۡ بِہٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللہَ رَبِّیۡ وَرَبَّکُمْ ۚ وَکُنۡتُ عَلَیۡہِمْ شَہِیۡدًا مَّا دُمْتُ فِیۡہِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمْ ؕ وَ اَنۡتَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۱۱۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: میں نے تو ان سے نہ کہا مگر وہی جو مجھے تو نے حکم دیا تھا کہ اللہ کو پوجو جو میرا بھی رب اور تمھا ر ا بھی رب اور میں ان پر مطلع تھا جب تک میں ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا تو تُو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھا اور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے ۔