Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
444 - 558
 کے بارے جو حکم دیا وہ توبہ کیلئے اپنی جان دینا تھا ۔ جب کلام کا سلسلہ ختم ہو نے کے بعد بادل اٹھا لیا گیا تو یہ لوگ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے’’ توبہ میں اپنی جانوں کو قتل کرنے کا جو حکم ہم نے سنا اس کی تصدیق ہم اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو اعلانیہ دیکھ نہ لیں۔ اس پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دیکھتے ہی دیکھتے انہیں شدید زلزلے نے آ لیا اور وہ تمام افراد ہلاک ہو گئے۔ (1) یہ دیکھ کرحضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے گڑگڑا کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کی کہ’’ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، اگر تو چاہتا تو یہاں حاضر ہونے سے پہلے ہی انہیں اور مجھے ہلاک کردیتا  تاکہ بنی اسرائیل ان سب کی ہلاکت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے اور انہیں مجھ پر قتل کی تہمت لگانے کا موقع نہ ملتا۔ اب جو میں اکیلا واپس جاؤں گا تو بنی اسرائیل کہیں گے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان سب کو مروا آئے ہیں۔ اے مولا! میری عزت تیرے ہاتھ میں ہے۔ کیا تو ہمیں اس کام کی وجہ سے ہلاک فرمائے گا جو ہمارے بے عقلوں نے کیا۔ انہوں نے جو کیا یہ تو تیری ہی طرف سے آزمائش ہے تو اس کے ذریعے جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے ۔ تو ہمارا مولیٰ ہے، تو ہمیں بخش دے اور ہم پررحم فرمااور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ شفاعت ِنبی برحق ہے جس سے دنیا ودین کی آفتیں ٹل جاتی ہیں۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سب کی شفاعت فرمائی جو اُن کے کام آئی۔
وَاکْتُبْ لَنَا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ اِنَّا ہُدْنَاۤ اِلَیۡکَ ؕ قَالَ عَذَابِیۡۤ اُصِیۡبُ بِہٖ مَنْ اَشَآءُ ۚ وَ رَحْمَتِیۡ وَسِعَتْ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ فَسَاَکْتُبُہَا لِلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ وَ یُؤْتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوۡنَ ﴿۱۵۶﴾ۚ 
ترجمۂکنزالایمان: اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ اور آخرت میں بیشک ہم تیری طرف رجوع لائے فرمایا  میرا عذاب میں جسے چاہوں دوں اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے تو عنقریب میں نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…ابو سعود، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۵، ۲/۳۰۱، صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۵، ۲/۷۱۵، ملتقطاً۔