اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب موسیٰ کا غصہ تھم گیا تو اس نے تختیاں اٹھالیں اور ان کی تحریر میں ہدایت اور رحمت ہے ان کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔
{ وَلَمَّا سَکَتَ عَنۡ مُّوۡسَی الْغَضَبُ:اور جب موسیٰ کا غصہ تھما۔} اس سے پہلی آیت میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے حالتِ غضب میں جو کچھ صادر ہوا اس کا ذکر کیا گیا اب اس آیت میں غصہ تھم جانے کے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے جو واقع ہوا اسے بیان کیا گیا ہے، چنانچہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپرقوم میں آکر تحقیق کرنے سے بھی یہ ظاہر ہو گیا کہ ا ن کے بھائی حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کوئی کوتاہی سرزد نہ ہوئی تھی اور انہوں نے جو عذر بیان کیا وہ درست تھا توآپ کا غصہ جاتا رہا اور آپ نے تورات کی تختیاں زمین سے اٹھا لیں۔ یاد رہے کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو غصہ آیا تو آپ نے دو کام کئے تھے (1) تورات کی تختیاں زمین پر ڈال دیں (2) حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو سر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس کی تلافی میں بھی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دو کام کئے (1) تورات کی تختیاں زمین سے اٹھا لیں۔ (2) اپنے بھائی کے لئے دعا کی۔ (1)
وَ اخْتَارَ مُوۡسٰی قَوْمَہٗ سَبْعِیۡنَ رَجُلًا لِّمِیۡقٰتِنَا ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَہۡلَکْتَہُمۡ مِّنۡ قَبْلُ وَ اِیّٰیَ ؕ اَتُہۡلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَآءُ مِنَّا ۚ اِنْ ہِیَ اِلَّا فِتْنَتُکَ ؕ تُضِلُّ بِہَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَہۡدِیۡ مَنۡ تَشَآءُ ؕ اَنۡتَ وَ لِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الْغٰفِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور موسیٰ نے اپنی قوم سے ستر مرد ہمارے وعدے کے لیے چنے پھر جب انہیں زلزلہ نے لیا موسیٰ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۴، ۵/۳۷۴۔