Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
440 - 558
بدعت کی اقسام:
	 بنیادی طور پر بدعت کی دو قسمیں ہیں (1) بدعتِ حَسنہ (2) بدعتِ سَیّئہ۔ بدعتِ حسنہ یہ ہے کہ وہ نیا کام جو کسی سنت کے خلاف نہ ہو۔ اور بدعتِ سیئہ یہ ہے کہ دین میں کوئی ایسا طریقہ ایجاد کرنا کہ جس کی اصل کتاب و سنت میں نہ ہو اورا س کی وجہ سے شریعت کا کوئی حکم تبدیل ہو رہا ہو۔ 
وَالَّذِیۡنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعْدِہَا وَ اٰمَنُوۡۤا ۫ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعْدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۵۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جنہوں نے برائیاں کیں اور ان کے بعد توبہ کی اور ایمان لائے تو اس کے بعد تمہارا رب بخشنے والا مہربان ہے۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ لوگ جنہوں نے برے اعمال کئے پھر ان کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو بیشک اس توبہ وایمان کے بعد تمہارا رب بخشنے والا مہربان ہے۔
{ وَالَّذِیۡنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ:اور وہ لوگ جنہوں نے برے اعمال کئے۔} اس آیت میں گناہ کے بعد توبہ کرنے والوں کیلئے بہت بڑی بشارت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ِبے پایاں کا ذکر ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص نے گناہ کا کوئی پہلو نہ چھوڑا یعنی کفر تک کا اِرتِکاب کیا، پھر اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں اپنے تمام گناہوں سے سچی توبہ کر لی اور ایمان لایا اورا س توبہ پر قائم رہا تو اللہ تعالیٰ اس کے سب گناہ بخش دے گا اور اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ (1)
	اس آیت سے ثابت ہوا کہ گناہ خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ جب بندہ اُن سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اپنے فضل و رحمت سے اُن سب کو معاف فرماتا ہے۔  
توبہ کے فضائل:
	کثیر احادیث میں بھی گناہوں سے سچی توبہ کی قبولیت اور ا س کے فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ترغیب کے لئے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۳، ۲/۱۴۳۔