حضرت امام محمدبن محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : کہا گیا ہے کہ کچھ گناہ ایسے ہیں جن کی سزا’’ برا خاتمہ‘‘ ہے ہم اس سے اللہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ چاہتے ہیں۔ یہ گناہ’’ ولایت اور کرامت کاجھوٹا دعویٰ کرنا ہے۔ (1)
یاد رہے کہ اگرکسی مسلمان کی مصیبت پر دل میں خود بخود خوشی پیدا ہوئی تو اِس کا قصور نہیں تا ہم اِس خوشی کو دل سے نکالنے کی بھر پور سَعی کرے، اگر خوشی کا اظہار کرے گا تو شماتت کا مُرتکب ہو گا ۔لہٰذاہر مسلمان کو چاہئے کہ دوسرے مسلمان کی تکلیف پر خوشی کے اظہار سے بچے اور شیطان کے دھوکے میں آ کر خود کو’’بڑا پہنچا ہوا‘‘ نہ سمجھے اور اس سے بچنے کی دعا بھی کرتا رہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سخت مصیبت، بد بختی کے آنے، بری تقدیر اور دشمنوں کے طعن و تشنیع سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ (2)
{قَالَ:عرض کی۔} یہ دعا ئے مغفرت امت کی تعلیم کے لئے ہے، ورنہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے پاک ہوتے ہیں اس لئے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے بھائی کو اس دعا میں شامل فرمایا حالانکہ ان سے کوئی کوتاہی سرزد نہ ہوئی تھی۔ نیز اس دعا میں حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی دلجوئی اور قوم کے سامنے ان کے اکرام کا اظہار بھی مقصودتھا۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُہُمْ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّہِمْ وَ ذِلَّۃٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ؕ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیۡنَ ﴿۱۵۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک وہ جو بچھڑا لے بیٹھے عنقریب انہیں ان کے رب کا غضب اور ذلت پہنچناہے دنیا کی زندگی میں اور ہم ایسا ہی بدلا دیتے ہیں بہتان ہایوں کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جنہوں نے بچھڑے کو (معبود) بنالیا عنقریب انہیں دنیا کی زندگی میں ان کے رب کا غضب اور ذلت پہنچے گی اور ہم بہتان باندھنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…احیاء العلوم، کتاب قواعد العقائد، الفصل الرابع من قواعد العقائد فی الایمان والاسلام۔۔۔ الخ، ۱/۱۷۱۔
2…بخاری، کتاب الدعوات، باب التعوّذ من جہد البلائ، ۴/۲۰۲، الحدیث: ۶۳۴۷۔