پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے کیونکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنی قوم کا ایسی بدترین معصیت میں مبتلا ہونا نہایت شاق اور گراں ہوا تب حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا: اے میری ماں کے بیٹے! میں نے قوم کو روکنے اور ان کو وعظ و نصیحت کرنے میں کمی نہیں کی لیکن قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے تو تم مجھ پر دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دو اور میرے ساتھ ایسا سلوک نہ کرو جس سے وہ خوش ہوں اور مجھے ظالموں کے ساتھ شمار نہ کرو۔ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے بھائی کا عذر قبول کرکے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: اے میرے رب! اگر ہم میں سے کسی سے کوئی اِفراط یا تفریط ہوگئی تومجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی خاص رحمت میں داخل فرما اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔یہ دعا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس لئے مانگی کہ دوسرے لوگ یہ سن کر خوش نہ ہوں کہ بھائیوں میں چل گئی اور اس کے ساتھ یہ وجہ بھی تھی کہ حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا غم غلط ہو جائے۔ (1)
نوٹ:یہ واقعہ اجمالی طور پر سورۂ بقرہ آیت 51تا54میں گزر چکا ہے، مزید تفصیل کے ساتھ ا س کے علاوہ سورہ طٰہٰ میں بھی مذکور ہے ۔
{ وَاَلْقَی الۡاَلْوَاحَ:اور تختیاں ڈال دیں۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جب اپنی قوم کو بچھڑے کی پوجا کرتے دیکھا تو دینی حمیت اور اللہ ربُّ الْعالمین کے ساتھ شرک پر غیرت کی وجہ سے شدید غضبناک ہوئے اور عُجلَت میں تورات کی تختیاں زمین پر رکھ دیں تاکہ ان کا ہاتھ جلدی فارغ ہو جائے اور وہ اپنے بھائی حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا سر پکڑ سکیں۔ اسے قرآنِ پاک میں ڈالنے سے تعبیر کیا گیا۔ اس ڈالنے میں کسی بھی طرح تورات کی تختیوں کی بے حرمتی مقصود نہ تھی اور وہ جو منقول ہے کہ بعض تختیاں ٹوٹ گئیں تواگر وہ درست ہے تو وہ عجلت میں زمین پر رکھنے کی وجہ سے ٹوٹی ہوں گی ، نہ یہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی غرض تھی اور نہ ہی ان کو یہ گمان تھا کہ ایساہو جائے گا ۔یہاں پر صرف دینی حمیت اور فَرطِ غضب کی وجہ سے جلدی میں ان تختیوں کو زمین پر رکھنا مراد ہے۔ (2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۸-۱۵۰، ۲/۱۴۰-۱۴۲، ابو سعود، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۸-۱۵۱، ۲/۲۹۷ -۲۹۹، ملتقطاً۔
2…روح المعانی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۰، ۵/۹۰-۹۱۔