فرعون چونکہ اپنی قوم کے ساتھ ہلاک ہو چکا تھا، اس لئے یہ زیورات بنی اسرائیل کے پاس تھے اور سامری کی حیثیت بنی اسرائیل میں ایسی تھی کہ لوگ اس کی بات کواہمیت دیتے اور اس پر عمل کرتے تھے۔ سامری چونکہ سونے کو ڈھالنے کا کام کرتا تھا اس لئے اس نے تمام سونے چاندی کو ڈھال کر اس سے ایک بے جان بچھڑا بنایا۔ پھر سامری نے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے گھوڑے کے سُم کے نیچے سے لی ہوئی خاک اس بچھڑے میں ڈالی تو اس کے اثر سے وہ گوشت اور خون میں تبدیل ہو گیا (اور بقولِ دیگر وہ سونے ہی کا بچھڑا تھا) اور گائے کی طرح ڈکارنے لگا۔ سامری کے بہکانے پر بنی اسرائیل کے بارہ ہزار لوگوں کے علاوہ بقیہ سب نے اس بچھڑے کی پوجا کی۔ یہ لوگ اتنے بے وقوف اور کم عقل تھے کہ اتنی بات بھی نہ سمجھ سکے کہ یہ بچھڑا نہ تو ان سے سوال جواب کی صورت میں کلام کر سکتا ہے، نہ انہیں رشد و ہدایت کی راہ دکھا سکتا ہے تو یہ معبود کس طرح ہو سکتا ہے۔ حالانکہ بنی اسرائیل جانتے تھے کہ رب وہ ہے جو قادرِ مُطْلَق، علیم، خبیر اور ہادی ہو اور نبی کے واسطے سے مخلوق سے کلام فرمائے۔ بچھڑا چونکہ راہ ِہدایت نہ دکھا سکتا تھا اس اعتبار سے وہ جماد کی طرح تھا۔ بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اِعراض کر کے ایسے عاجز و ناقص بچھڑے کو پوجا تو وہ ظالم ٹھہرے۔ پھر جب اپنے اس کرتوت پرشرمندہ ہوئے اور سمجھ گئے کہ وہ یقینا گمراہ ہوگئے تھے تو کہنے لگے: اگر ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہماری مغفرت نہ فرمائی تو ہم ضرور تباہ ہوجائیں گے۔ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی مناجات سے مشرف ہو کر کوہ ِطور سے اپنی قوم کی طرف واپس پلٹے تو بہت زیادہ غم و غصے میں بھرے ہوئے تھے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں خبر دے دی تھی کہ سامری نے اُن کی قوم کو گمراہ کردیا ہے۔ آپ کو جھنجلاہٹ اور غصہ سامری پر تھا نہ کہ حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پہلے سے بتا دیا تھا کہ انہیں سامری نے گمراہ کیا ہے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے (قوم سے فرمایا کہ تم نے میرے بعد کتنا برا کام کیا کہ شرک کرنے لگے اور میرے تورات لے کر آنے کا انتظار بھی نہ کیا ۔ دوسرے قول کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ) حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اپنی قوم کے ان لوگوں سے جنہوں نے بچھڑے کی پوجا نہ کی تھی فرمایا: تم نے میرے بعد کتنا برا کام کیا کہ لوگوں کو بچھڑا پوجنے سے نہ روکا ۔کیا تم نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم میں جلدی کی اور میرے توریت لے کر آنے کا انتظار نہ کیا؟ اس کے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے تورات کی تختیاں زمین پر ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر کے بال