Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
434 - 558
 آواز کرتا کیا نہ دیکھا کہ وہ ان سے نہ بات کرتا ہے اور نہ انہیں کچھ راہ بتائے اسے لیا اور وہ ظالم تھے۔ اور جب پچتائے اور سمجھے کہ ہم بہکے بولے اگر ہمارا رب ہم پر مہر نہ کرے اور ہمیں نہ بخشے تو ہم تباہ ہوئے۔اور جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا غصہ میں بھرا جھنجلایا ہوا کہا تم نے کیا بری میری جانشینی کی میرے بعد کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے جلدی کی اور تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگا کہا اے میرے ماں جائے قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالیں تو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا اور مجھے ظالموں میں نہ ملا۔عرض کی اے رب میرے مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت کے اندر لے لے اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا ۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور موسیٰ کے پیچھے اس کی قوم نے اپنے زیورات سے ایک بے جان بچھڑے کو(معبود) بنالیا جس کی گائے جیسی آواز تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ (بچھڑا) ان سے نہ کلام کرتا ہے اور نہ انہیں کوئی ہدایت دیتا ہے؟ انہوں نے اسے (معبود) بنالیا اور وہ ظالم تھے۔  اور جب شرمندہ ہوئے اور سمجھ گئے کہ وہ یقینا گمراہ ہوگئے تھے تو کہنے لگے: اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہماری مغفرت نہ فرمائی تو ہم ضرور تباہ ہوجائیں گے۔ اور جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف بہت زیادہ غم و غصے میں بھرے ہوئے لوٹے تو فرمایا: تم نے میرے بعد کتنا برا کام کیا، کیا تم نے اپنے رب کے حکم میں جلدی کی؟ اور موسیٰ نے تختیاں (زمین پر) ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ ( ہارون نے) کہا: اے میری ماں کے بیٹے! بیشک قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے تو تم مجھ پر دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دو اور مجھے ظالموں کے ساتھ نہ ملا۔عرض کی: اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔
{ وَاتَّخَذَ:اور بنالیا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی 3آیات میں جو واقعہ بیان ہوا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ عَزَّوَجَلَّسے کلام کرنے کیلئے کوہِ طور پر تشریف لے گئے تو ان کے جانے کے تیس دن بعد سامری نے بنی اسرائیل سے وہ تمام زیوارت جمع کر لئے جو انہوں نے اپنی عید کے دن قبطیوں سے استعمال کی خاطر لئے تھے ۔