Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
431 - 558
حَبِطَتْ اَعْمٰلُہُمْ ؕ ہَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۴۷﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑا ئی چاہتے ہیں اور اگر سب نشانیاں دیکھیں ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ دیکھیں اس میں چلنا پسند نہ کریں اور گمراہی کا راستہ نظر پڑے تو اس میں چلنے کو موجود ہوجائیں یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان سے بے خبر بنے۔ اور جنہوں نے ہماری آیتیں اور آخرت کے دربار کو جھٹلایا ان کا سب کیا دھرا اَکارت گیا انہیں کیا بدلہ ملے گا مگر وہی جو کرتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کوپھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑا ئی چاہتے ہیں اور اگر وہ سب نشانیاں دیکھ لیں تو بھی ان پر ایمان نہیں لاتے اور اگر وہ ہدایت کی راہ دیکھ لیں تواسے اپنا راستہ نہیں بناتے اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو اسے اپنا راستہ بنالیتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غافل رہے۔اور جنہوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تو ان کے تمام اعمال برباد ہوئے، انہیں ان کے اعمال ی کا بدلہ دیا جائے گا۔ 
{ سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ:اور میں اپنی آیتوں سے پھیردوں گا۔} مفسرین نے اس آیت کے مختلف معنی بیان کئے ہیں۔  حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :اس کا معنی یہ ہے کہ جو لوگ میرے بندوں پر غرور کرتے ہیں اور میرے اولیاء سے لڑتے ہیں میں انہیں اپنی آیتیں قبول کرنے اور ان کی تصدیق کرنے سے پھیردوں گا تاکہ وہ مجھ پر ایمان نہ لائیں۔یہ اُن کے عناد کی سزا ہے کہ انہیں ہدایت سے محروم کیا گیا۔ (1)
تکبر کی تعریف اور ا س کی اَقسام:
	اس آیت میں ناحق تکبر کرنے والوں کے لئے بڑی عبرت ہے۔ تکبر کی تعریف یہ ہے کہ دوسروں کو حقیر جاننا ۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۶، ۲/۱۶۷۔