مُضْطَر ہوا تواس نے تر درختوں کی رطوبت چوسی ، وہ رطوبت منہ میں پہنچتے ہی خون ہوگئی۔ سات روز تک خون کے سوا کوئی چیز پینے کی میسر نہ آئی تو پھر حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا وعدہ کیا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا فرمائی یہ مصیبت بھی دور ہوئی مگر وہ ایمان پھر بھی نہ لائے۔(1)
وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیۡہِمُ الرِّجْزُ قَالُوۡا یٰمُوۡسَی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنۡدَکَ ۚ لَئِنۡ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ ﴿۱۳۴﴾ۚ
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ان پر عذاب پڑتا کہتے اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے بیشک اگر تم ہم پر سے عذاب اٹھادو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا توکہتے، اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے ۔بیشک اگر آپ ہم سے عذاب اٹھادو گے تو ہم ضرور آپ پر ایمان لائیں گے اور ضرور ہم بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے۔
{ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیۡہِمُ الرِّجْزُ:اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا۔} اس آیت میں مذکور لفظ ’’رِجْز‘‘ کا معنی عذاب ہے۔ اس کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہی پانچ قسموں کا عذاب ہے جو طوفان ،ٹڈیوں ، قمل، مینڈک اور خون کی صورت میں ان پر مُسلَّط کیا گیا۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد طاعون ہے اور یہ پہلے پانچ عذابوں کے بعد چھٹا عذاب ہے۔ (2)
اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون ا ور اس کی قوم پر جب طوفان ،ٹڈیوں ، قمَّل،مینڈک اور خون یا طاعون کی صورت میں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۳، ۲/۱۵۹-۱۶۱۔
2…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۴، ۲/۱۳۲۔