Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
410 - 558
 والے واقعات بلاکم و کاست بیان فرما دئیے اور جیسا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا کہ فرعون اپنی قوم کے ساتھ ہلاک کر دیاگیا اور بنی اسرائیل ملکِ مصر کے مالک ہوئے۔
وَلَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوۡنَ بِالسِّنِیۡنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۳۰﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے فرعون والوں کو برسوں کے قحط اور پھلوں کے گھٹانے سے پکڑا کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے فرعونیوں کو کئی سال کے قحط اور پھلوں کی کمی میں گرفتار کردیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
 { وَلَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوۡنَ:اور بیشک ہم نے فرعون والوں کو پکڑا۔} اس آیت سے اللہ تعالیٰ کی روشن نشانیوں کو جھٹلانے کے سبب فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کے ابتدائی واقعات کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سب سے پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرعونیوں کو کئی سال کے قحط ،پھلوں کی کمی اور فقر وفاقہ کی مصیبت میں گرفتار کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’دیہات میں رہنے والے فرعونی قحط کی مصیبت میں گرفتار ہوئے اور شہروں میں رہنے والے (آفات کی وجہ سے) پھلوں کی کمی کی مصیبت میں مبتلا ہوئے۔ حضرت کعب  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ’’ان لوگوں پر ایک وقت ایسا آیا کہ کھجور کے درخت پر صرف ایک ہی کھجور اگتی تھی۔ (1)
	 اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ سختیاں اس لئے نازل فرمائیں تاکہ ان سے عبرت حاصل کرتے ہوئے وہ سرکشی اور عناد کا راستہ چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف لوٹ آئیں کیونکہ سختی و مصیبت دل کو نرم کر دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس جو بھلائی ہے اس کی طرف راغب کر دیتی ہے۔ کہتے ہیں کہ’’ فرعون نے اپنی چار سو برس کی عمر میں سے تین سو بیس سال تو اس آرام کے ساتھ گزارے تھے کہ اس مدت میں وہ کبھی درد ،بخار یا بھوک میں مبتلا ہی نہیں ہوا۔ اگر اس کے ساتھ ایسا ہوتا تو وہ کبھی رَبُوبِیَّت کا دعویٰ نہ کرتا۔ (2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۲/۷۰۱، خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۲/۱۲۹، ابو سعود، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۲/۲۸۸، ملتقطاً۔
2…تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۵/۳۴۴، مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ص۳۸۱، ملتقطاً۔