Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
408 - 558
تھا کیونکہ وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزے کی قوت سے مرعوب ہوچکا تھا اسی لئے اس نے اپنی قوم سے یہ کہا کہ’’ ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے۔ اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ اس طرح حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی تعداد گھٹا کر اُن کی قوت کم کریں گے۔ مزید یہ کہ عوام میں اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ بھی کہہ دیا کہ’’ ہم بے شک اُن پر غالب ہیں۔ اس سے اس کا مقصود یہ تھا کہ عوام کو پتا چل جائے کہ اس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کو کسی عجز یا خوف کی وجہ سے نہیں چھوڑا بلکہ وہ جب چاہے انہیں پکڑ سکتا ہے۔یہ بات وہ اپنے منہ سے کہتا تھا جبکہ فرعون کا حال یہ تھا کہ اس کا دل حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے رعب میں بھرا پڑا تھا۔ (1)
قَالَ مُوۡسٰی لِقَوْمِہِ اسْتَعِیۡنُوۡا بِاللہِ وَاصْبِرُوۡا ۚ اِنَّ الۡاَرْضَ لِلہِ ۟ۙ یُوۡرِثُہَا مَنۡ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ ؕ وَالْعٰقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۸﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ کی مدد چاہو اور صبر کرو بیشک زمین کا مالک اللہ ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے وارث بنائے اور آخر میدان پرہیزگاروں کے ہاتھ ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:  موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: اللہ سے مدد طلب کرو اور صبر کرو ۔بیشک زمین کا مالک اللہ ہے، وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے وارث بنادیتا ہے اور اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہی ہے۔ 
{ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوْمِہِ:موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا۔} فرعون کے اس قول کہ ’’ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے‘‘ کی وجہ سے بنی اسرائیل میں کچھ پریشانی پیدا ہوگئی اور اُنہوں نے حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اس کی شکایت کی، اس کے جواب میں حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مدد طلب کرو، وہ تمہیں کافی ہے اور آنے والی مصیبتوں اور بلاؤں سے گھبراؤ نہیں بلکہ ان پرصبر کرو، بیشک زمین کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے اور زمینِ مصر بھی اس میں داخل ہے، وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے وارث بنادیتا ہے۔ یہ فرما کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۲/۱۲۸، تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۵/۳۴۲، تفسیر قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۴/۱۸۹، الجزء السابع، ملتقطاً۔