پر تھاا ور دوسرا جبڑا فرعون کے محل کی دیوار پر تھا، وہ اژدہا فرعون کو پکڑنے کے لئے دوڑا تو فرعون اپنا تخت چھوڑ کربھاگ گیا۔(1)
وَّ نَزَعَ یَدَہٗ فَاِذَا ہِیَ بَیۡضَآءُ لِلنّٰظِرِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اور اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا تو وہ دیکھنے والوں کے سامنے جگمگانے لگا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا تو وہ دیکھنے والوں کے سامنے جگمگانے لگا۔
{ وَّ نَزَعَ یَدَہٗ:اور اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا۔} اس آیت میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے دوسرے معجزے کا ذکر ہے کہ آپ نے ا پنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا تو وہ دیکھنے والوں کے سامنے جگمگانے لگا اور اس کی روشنی اور چمک نورِ آفتاب پر غالب ہوگئی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرعون کو اپنا ہاتھ دکھا کر پوچھا کہ’’ یہ کیا ہے؟ فرعون نے جواب دیا :آپ کا ہاتھ ہے۔ پھر حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ا پنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا تو وہ جگمگانے لگا۔ (2)
دستِ اقدس کا کمال:
یہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے مبارک ہاتھ کا کمال تھا ،اب سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے دستِ اقدس کا کمال ملاحظہ فرمائیے، چنانچہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
ہر خطِ کف ہے یہاں اے دستِ بیضائے کلیم
موجزن دریائے نورِ بے مثالی ہاتھ میں
ٍ یعنی اے پیارے موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے چمکتے ہوئے نورانی ہاتھ! تیری بڑی شان ہے لیکن ہمارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے دستِ کرم کی ہر لکیر سے نور کا ایک بے مثال دریا موجزن ہے ،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب ہر لکیر کی یہ شان ہے تو پورے دستِ اقدس کی عظمت کا اندازہ کون لگا سکتا ہے۔
قَالَ الْمَلَاُ مِنۡ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۰۹﴾
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۲/۶۹۷۔
2…مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ص۳۷۸۔