نے ارشاد فرمایا ’’ جو دن کے شروع میں سورہ ٔیٰسٓ پڑھ لے تو اس کی تمام ضرورتیں پوری ہوں گی۔ (1)
{وَلٰکِنْ کَذَّبُوْا:مگر انہوں نے تو جھٹلایا۔} یعنی ایمان لانے کی صورت میں توہم انہیں زمینی اور آسمانی برکتوں سے نوازتے لیکن وہ ایمان نہ لائے اور اللہ عَزَّوَجَلَّکے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو جھٹلانے لگے تو ہم نے انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے عذاب میں گرفتار کردیا۔ (2)
وسعتِ رزق سعادت بھی ہے اور وبال بھی:
اس آیت سے ثابت ہوا کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کاشکر گزار بندہ ہوتو رزق میں وسعت اور فراخ دستی سعادت ہے اور جب ناشکرا ہو تو یہ اس کے لئے وبال ہے۔ ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے
’’ وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ وَلَئِنۡ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ‘‘ (3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرما دیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔
اَفَاَمِنَ اَہۡلُ الْقُرٰۤی اَنۡ یَّاۡتِیَہُمْ بَاۡسُنَا بَیٰتًا وَّہُمْ نَآئِمُوۡنَ ﴿ؕ۹۷﴾ اَوَ اَمِنَ اَہۡلُ الْقُرٰۤی اَنۡ یَّاۡتِیَہُمْ بَاۡسُنَا ضُحًی وَّہُمْ یَلْعَبُوۡنَ ﴿۹۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا بستیوں والے نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سوتے ہوں۔ یا بستیوں والے نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آئے جب وہ کھیل رہے ہوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا بستیوں والے اس بات سے بے خوف ہوگئے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سو رہے ہوں۔یا بستیوں والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن کے وقت آجائے جب وہ کھیل میں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 …دارمی،کتاب فضائل القرآن، باب فی فضل یٰس، ۲/۵۴۹، الحدیث: ۳۴۱۸۔
2…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۶، ۲/۱۲۲۔
3…ابراہیم:۷۔