جاتے اور کبھی واپس آجاتے ، پھر جب بارش ہو جاتی تو یہ کیفیت ختم ہوجاتی ۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا ’’ اے عائشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا! مجھے یہ خوف ہوا کہ کہیں یہ بادل اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب نہ ہو جو میری امت پر بھیجا گیا ہو۔(1)
وَلَوْ اَنَّ اَہۡلَ الْقُرٰۤی اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَفَتَحْنَا عَلَیۡہِمۡ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرْضِ وَلٰکِنۡ کَذَّبُوۡا فَاَخَذْنٰہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿۹۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر بستیو ں والے ایمان لاتے اور ڈرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے کیے پر گرفتار کیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر بستیو ں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے پکڑلیا۔
{ وَلَوْ اَنَّ اَہۡلَ الْقُرٰۤی اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا:اور اگر بستیو ں والے ایمان لاتے اورتقویٰ اختیار کرتے۔} پہلی آیت میں بیان ہوا کہ جب ان قوموں نے نافرمانی اور سرکشی کا راستہ اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب نازل کیا اور اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ اگر وہ لوگ اطاعت و فرماں برداری کرتے تو اس صورت میں آسمانی اور زمینی برکتیں انہیں نصیب ہوتیں چنانچہ ارشاد فرمایا کہ’’ اگر بستیو ں والے اللہ عَزَّوَجَلَّ، اس کے فرشتوں ،اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے اورخدا اور رسول کی اطاعت اختیار کرتے اور جس چیز سے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور رسول عَلَیْہِ السَّلَامنے منع فرمایا اس سے باز رہتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے اور ہر طرف سے انہیں خیر پہنچتی ،وقت پر نافع اور مفید بارشیں ہوتیں ،زمین سے کھیتی پھل بکثرت پیدا ہوتے، رزق کی فراخی ہوتی، امن و سلامتی رہتی اور آفتوں سے محفوظ رہتے۔ (2)
تقویٰ رحمت ِ الٰہی ملنے کاذریعہ ہے:
اس سے معلوم ہو ا کہ تقویٰ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی رحمتِ الٰہی کا ذریعہ ہے ۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۱/۵۴۶، الحدیث: ۹۹۴۔
2…تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۶، ۵/۳۲۱۔