آگ کے دوپہاڑ:
حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ارشاد فرماتے ہیں : ’’میں ایک مرتبہ اپنے پڑوسی کے پاس گیا تو اس پر موت کے آثار نمایا ں تھے اور وہ کہہ رہاتھا: ’’آگ کے دو پہاڑ، آگ کے دو پہاڑ۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ، میں نے اس سے پوچھا: کیا کہہ رہے ہو؟ تو اس نے بتایا: اے ابو یحییٰ! میرے پاس دو پیمانے تھے، ایک سے دیتا اور دوسرے سے لیتا تھا۔ حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’میں اٹھا اور ایک پیمانے کو دوسرے پر ( توڑنے کی خاطر) مارنے لگ گیا۔ تواس نے کہا: ’’اے ابو یحییٰ! جب بھی آپ ایک کو دوسرے پر مارتے ہیں معاملہ زیادہ شدید اور سخت ہو جاتا ہے۔ پس وہ اسی مرض میں مر گیا۔ (1)
اللہ تعالیٰ ہمیں ناپ تول میں کمی کرنے سے محفوظ فرمائے،اٰمین۔
وَلَاتَقْعُدُوۡا بِکُلِّ صِرٰطٍ تُوۡعِدُوۡنَ وَتَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ مَنْ اٰمَنَ بِہٖ وَتَبْغُوۡنَہَا عِوَجًا ۚ وَ اذْکُرُوۡۤا اِذْ کُنۡتُمْ قَلِیۡلًا فَکَثَّرَکُمْ ۪ وَانۡظُرُوۡاکَیۡفَ کَانَ عٰقِبَۃُ الْمُفْسِدِیۡنَ ﴿۸۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہر راستے پر یوں نہ بیٹھو کہ راہگیروں کو ڈراؤ اور اللہ کی راہ سے انہیں روکو جو اس پر ایمان لائے اور اس میں کجی چاہو اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے اس نے تمہیں بڑھادیا اور دیکھو فسادیوں کا کیسا انجام ہوا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہر راستے پر یوں نہ بیٹھو کہ راہگیروں کو ڈراؤ اور اللہ کے راستے سے ایمان لانے والوں کو روکو اور تم اس میں ٹیڑھا پن تلاش کرو اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے تواس نے تمہاری تعداد میں اضافہ کردیا اور دیکھو ، فسادیوں کا کیسا انجام ہوا؟
{ وَلَاتَقْعُدُوۡا بِکُلِّ صِرٰطٍ:اور ہر راستے پر یوں نہ بیٹھو ۔} یہ لوگ مدین کے راستوں پر بیٹھ جاتے تھے اور ہر راہ گیر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الزواجر عن اقتراف الکبائر، الباب الثانی فی الکبائر الظاہرۃ، الکبیرۃ الثالثۃ بعد المائتین، ۱/۵۳۳