سے اس کے جانوروں کو دشواری ہوتی تھی اس لئے اس نے مصدع ابن دہر اور قیدار کو بلا کر کہا کہ’’ اگر تو اونٹنی کو ذبح کر دے تو میری جس لڑکی سے چاہے نکاح کر لینا۔ یہ دونوں اونٹنی کی تلاش میں نکلے اور ایک جگہ پا کر دونوں نے اسے ذبح کر دیا مگر قیدار نے ذبح کیا اور مصدع نے ذبح پر مدد دی۔ اور حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے سرکشی کرتے ہوئے کہنے لگے: اے صالح! اگر تم رسول ہو تو ہم پر وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں وعیدیں سناتے رہتے ہو۔ انہوں نے بدھ کے دن اونٹنی کی کوچیں کاٹیں تھیں ، حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان سے فرمایا کہ تم تین دن کے بعد ہلاک ہو جاؤ گے۔ پہلے دن تمہارے چہرے زرد، دوسرے دن سرخ، تیسرے دن سیاہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہ لوگ اتوار کے دن دوپہر کے قریب اولاً ہولناک آواز میں گرفتار ہوئے جس سے ان کے جگر پھٹ گئے اور ہلاک ہو گئے۔ پھر سخت زلزلہ قائم کیا گیا۔ ان کی ہلاکت سے پہلے اولاً حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مومنوں کے ساتھ اس بستی سے نکل کر جنگل میں چلے گئے۔ پھر ان کی ہلاکت کے بعد وہاں سے مکہ معظمہ روانہ ہوئے۔ روانگی کے وقت ان کی لاشوں پر گزرے تو ان کی لاشوں سے خطاب کر کے بولے: اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔
نوٹ:سورۂ ہود آیت نمبر61تا 68میں بھی یہ واقعہ مذکور ہے۔
{ہٰذِہٖ نَاقَۃُ اللہِ:اللہ کی یہ اونٹنی ہے۔} اس اونٹنی کی پیدائش سے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کئی معجزات کا ظہور ہوا، ایک یہ کہ وہ اونٹنی نہ کسی پیٹھ میں رہی، نہ کسی پیٹ میں ،نہ کسی نر سے پیدا ہوئی نہ مادہ سے، نہ حمل میں رہی نہ اُس کی خلقت تدریجاً کمال کو پہنچی بلکہ طریقہِ عادیہ کے خلاف وہ پہاڑ کے ایک پتھر سے دفعتہ پیدا ہوئی، اس کی یہ پیدائش معجزہ ہے۔ دوسرا یہ کہ ایک دن وہ پانی پیتی اوردوسرے دن پورا قبیلہ ثمود ،یہ بھی معجزہ ہے کہ ایک اونٹنی ایک قبیلے کے برابرپی جائے، تیسرا یہ کہ اس کے پینے کے دن اس کا دودھ دوہا جاتا تھا اور وہ اتنا ہوتا تھا کہ تمام قبیلہ کو کافی ہو اور پانی کے قائم مقام ہوجائے چوتھا یہ کہ تمام وحوش و حیوانات اس کی باری کے روز پانی پینے سے باز رہتے تھے۔ اتنے معجزات حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صدقِ نبوت کی زبردست دلیلیں تھیں۔
{تَتَّخِذُوۡنَ مِنۡ سُہُوۡلِہَا قُصُوۡرًا:تم نرم زمین میں محلات بناتے تھے۔} قومِ ثمود نے گرمیوں کے لئے بستیوں میں محل بنائے ہوئے تھے اور سردی کے موسم کے لئے پہاڑوں میں گرم مکانات تعمیر کئے تھے جیسا کہ آج کل بھی دولت مند لوگ کرتے ہیں ٹھنڈے اور گرم علاقوں میں جدا جدا مکانات بناتے ہیں۔