Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
32 - 558
اُحِلَّ لَکُمْ صَیۡدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗ مَتٰعًا لَّکُمْ وَلِلسَّیَّارَۃِ ۚ وَحُرِّمَ عَلَیۡکُمْ صَیۡدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ؕ وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیۡۤ اِلَیۡہِ تُحْشَرُوۡنَ ﴿۹۶﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: حلال ہے تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے اور مسافروں کے فائدے کو اور تم پر حرام ہے خشکی کا شکارجب تک تم احرام میں ہو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تمہیں اٹھنا ہے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لئے تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا اور جب تک تم احرام کی حالت میں ہوتب تک تم پرخشکی کا شکار حرام کردیا گیا اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تمہیں اٹھایا جائے گا۔ 
{ اُحِلَّ لَکُمْ:تمہارے لئے حلال کردیا گیا۔} اس آیت میں یہ مسئلہ بیان فرمایا گیا کہ محرم کے لئے دریا کا شکار حلال ہے اور خشکی کا حرام ۔ دریا کا شکار وہ ہے جس کی پیدائش دریامیں ہو اور خشکی کا وہ جس کی پیدائش خشکی میں ہو۔(1) 
حرام شکاروں کا بیان:
	یاد رہے کہ دو شکار حرام ہیں : محرم کاکیا ہوا اور حرم کا۔ حرم شریف میں رہنے والے شکارکئے جانے والے جانور کو نہ وہ آدمی شکار کر سکتا ہے جو حالتِ احرام میں ہو اور نہ بغیر احرام والا، وہ اللہ تعالیٰ کی امان میں ہیں۔ یہاں احرام کے شکار کی حرمت کا ذکر ہے جو احرام ختم ہونے پر ختم ہو جاتی ہے مگر حرم کا شکار ہمیشہ ہر شخص کے لئے حرام ہے خواہ وہ شخص احرام میں ہو یا احرام سے فارغ بلکہ حرم کے شکار کو اس کی جگہ سے اٹھانا بھی منع ہے۔
جَعَلَ اللہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیۡتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَالشَّہۡرَ الْحَرَامَ وَ الْہَدْیَ وَالْقَلٰٓئِدَ ؕ ذٰلِکَ لِتَعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بحر الرائق، کتاب الحج، فصل ان قتل محرم صیداً۔۔۔ الخ، ۳/۴۷۔