Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
308 - 558
بدکاری کرنا) یہ ’’ مَا ظَہَرَ‘‘ ہے اور جو زنا خفیہ طریقے سے کیا جائے جیسے کسی جوان لڑکی یا عورت سے عشق و محبت کے نتیجے میں یا پیا رکا جھانسا دے کر زنا کرنا، یہ ’’مَا بَطَنَ ‘‘ ہے۔ (1)
ظاہری و باطنی بے حیائیوں کو حرام قرار دئیے جانے کی وجہ:
	حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے زیادہ کوئی غَیور نہیں ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام ظاہری اور باطنی فَوَاحِشْ یعنی بے حیائیوں کو حرام کر دیا۔ (2)
	 حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: ’’اگر میں کسی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھ لوں تو تلوار کی دھار سے اس کی جان نکال کے رکھ دوں۔ جب یہ بات رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سنی تو ارشاد فرمایا: ’’تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہو! حالانکہ اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں اُن سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیور ہے، اسی غیرت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بے حیائی کے کاموں کو حرام فرما دیا ہے، چاہے بے حیائی ظاہر ہو یا پوشیدہ۔ (3)
{ وَالۡاِثْمَ:اور گناہ۔} فواحش کی طرح ’’اَلۡاِثْمَ ‘‘ کی تفسیر میں بھی چند قول ہیں (1) ہر صغیرہ گناہ ’’اَلۡاِثْمَ ‘‘ ہے۔ (2) وہ گناہ کہ جس پر شرعی سزا لازم نہ ہو ’’اَلْاِثْمَ‘‘ ہے۔ (3) ہر گناہ ’’اَلْاِثْمَ‘‘ہے چاہے صغیرہ ہو یا کبیرہ۔ (4)
{ وَالْبَغْیَ بِغَیۡرِ الْحَقِّ:اور ناحق زیادتی ۔} ’’اَلْبَغْیَ‘‘کا معنی ہے: ظلم، تکبر ، لوگوں پر زیادتی کرنا اورا ن سب چیزوں میں حد سے بڑھ جانا۔ ناحق زیادتی کا معنی ہے ’’کسی شخص کا اس چیز کو طلب کرنا جو اس کا حق نہیں جبکہ اپنے حق کو طلب کرنا اس میں داخل نہیں۔ (5)
وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمْ لَا یَسْتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوۡنَ ﴿۳۴﴾ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۳، ۵/۲۳۲۔
2…مسلم، کتاب التوبۃ، باب غیرۃ اللہ تعالی وتحریم الفواحش، ص۱۴۷۵، الحدیث: ۳۲(۲۷۶۰)۔
3…بخاری، کتاب التوحید، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا شخص اغیر من اللہ، ۴/۵۴۴، الحدیث: ۷۴۱۶۔
4…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۳، ۲/۹۰۔
5…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۳، ۲/۹۰۔