’’ ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنۡتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔
لباس سے انسان کی زینت ہوتی ہے، اسی اعتبار سے فرمایا ہے ’’ لِبَاسُ التَّقْوٰی‘‘ (تقویٰ کا معنی ہے برے عقائد اور برے اعمال کو ترک کر دینا اور پاکیزہ سیرت اپنانا، جس طرح کپڑوں کا لباس انسان کو سردی، گرمی اور برسات کے موسموں کی شدت سے محفوظ رکھتا ہے اسی طرح تقویٰ کا لباس انسان کو اُخروی عذاب سے بچاتا ہے۔) (2)
یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ کَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیۡکُمۡ مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنۡزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوْاٰتِہِمَا ؕ اِنَّہٗ یَرٰىکُمْ ہُوَ وَقَبِیۡلُہٗ مِنْ حَیۡثُ لَا تَرَوْنَہُمْ ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیۡنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیۡنَ لَایُؤْمِنُوۡنَ ﴿۲۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے آدم کی اولاد خبردار تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکالا اتروا دیئے ان کے لباس کہ ان کی شرم کی چیزیں انہیں نظر پڑیں بیشک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے بیشک ہم نے شیطانوں کو ان کا دوست کیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے آدم کی اولاد! تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسے اس نے تمہارے ماں باپ کوجنت سے نکال دیا، ان دونوں سے ان کے لباس اتروا دئیے تاکہ انہیں ان کی شرم کی چیزیں دکھا دے۔ بیشک وہ خود اور اس کا قبیلہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ۔بیشک ہم نے شیطانوں کو ایمان نہ لانے والوں کا دوست بنا دیا ہے۔
{ یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ:اے آدم کی اولاد!} شیطان کی فریب کاری اور حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ اس کی دشمنی وعداوت کا بیان فرما کر بنی آدم کو مُتَنَبّہ اور ہوشیار کیا جارہا ہے کہ وہ شیطان کے وسوسے ،اغواء اور اس کی مکاریوں سے بچتے رہیں۔ جو حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ ایسی فریب کاری کرچکا ہے وہ اُن کی اولاد کے ساتھ کب درگزر کرنے والا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…البقرہ:۱۸۷۔
2…مفردات امام راغب، کتاب اللام، ص۷۳۴-۷۳۵ ملخصاً۔