Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
29 - 558
فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۹۴﴾
 ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو ضرور اللہ تمہیں آزمائے گا ایسے بعض شکار سے جس تک تمہارے ہاتھ اور نیزے پہونچیں کہ اللہ پہچان کرا دے ان کی جو اس سے بن دیکھے ڈرتے ہیں پھر اس کے بعد جو حد سے بڑھے اس کے لئے دردناک سزا ہے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ضرور اللہ ان شکاروں کے ذریعے جن تک تمہارے ہاتھ اور نیزے پہنچ سکیں گے تمہارا امتحان کرے گا تاکہ اللہ ان لوگوں کی پہچان کرادے جو اس سے بن دیکھے ڈرتے ہیں پھر اس (ممانعت) کے بعد جو حد سے بڑھے تواس کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
{ لَیَبْلُوَنَّکُمُ اللہُ:ضرور اللہ تمہیں آزمائے گا۔} 6 ہجری جس میں حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا، اس سال مسلمان حالت ِ احرام میں تھے ۔اُس حالت میں وہ اِس آزمائش میں ڈالے گئے کہ شکار کئے جانے والے جانور اور پرندے بڑی کثرت سے آئے اور اُن کی سواریوں پر چھا گئے۔ اتنی کثرت تھی کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکیلئے انہیں ہتھیار سے شکار کرلینا بلکہ ہاتھ سے پکڑ لینا بالکل اختیا رمیں تھا، اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (1) لیکن صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمحکمِ الٰہی کی پابندی میں ثابت قدم رہے اور حالت ِ احرام میں شکار نہ کیا۔ اس سے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی عظمت بھی ظاہر ہوئی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی گناہ کے اسباب و مواقع جس قدر کثرت سے موجود ہوں ان سے بچنے میں اتنا ہی زیادہ ثواب ہے، جیسے نوجوان کو تقویٰ و پرہیزگاری اور پارسائی کا ثواب بوڑھے کی بَنِسبت زیادہ ہے۔ یونہی جو برے لوگوں کے درمیان بھی نیک رہے وہ نیکوں کے درمیان نیک رہنے والے سے بہتر ہے۔ حضرت سیدنا یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام اور زلیخا کا واقعہ بھی اِس بات کی قوی دلیل ہے لیکن یہاں یہ یاد رہے کہ اِن باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ برے دوستوں کی صحبت میں رہ کریا گناہ کی جگہ جاکر نیک بننے کی کوشش کرے تاکہ زیادہ بڑا متقی بنے بلکہ حتی الامکان ایسی صحبت اور مقام سے بچنا ہی چاہیے کہ زیادہ تقویٰ کی امید پر کہیں اصل ہی سے نہ جاتے رہیں۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۴، ۱/۵۲۵۔