Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
268 - 558
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو بیشک ہم ضرور ان لوگوں سے سوال کریں گے جن کی طرف (رسول) بھیجے گئے اور بیشک ہم ضرور رسولوں سے سوال کریں گے۔
{فَلَنَسْـَٔلَنَّ:تو بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے۔} یعنی ان امتوں سے پوچھا جائے گا جن کی طرف رسول بھیجے گئے کہ تمہیں تمہارے رسولوں نے تبلیغ کی یا نہیں اور تم نے رسولوں کی د عوت کا کیا جواب دیا اور ان کے حکم کی کیا تعمیل کی۔ اور رسولوں سے دریافت کیاجائے گا کہ  کیاآپ نے اپنی اُمتوں کو ہمارے پیغام پہنچائے  اور تمہاری قوم نے تمہیں کیا جواب دیاتھا۔ یہاں علماء نے فرمایا ہے کہ یہ سوال و جواب ہمارے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے متعلق نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَلَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیۡمِ﴿۱۱۹﴾ ‘‘ (1)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اورآپ سے جہنمیوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔
	اور نہ کوئی بد باطن کافر یہ کہہ سکے گا کہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے تبلیغ نہیں فرمائی۔
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیۡہِمۡ بِعِلْمٍ وَّمَاکُنَّا غَآئِبِیۡنَ ﴿۷﴾
ترجمۂکنزالایمان:     تو ضرور ہم ان کو بتادیں گے اپنے علم سے اور ہم کچھ غائب نہ تھے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:      تو ضرور ہم ان کو اپنے علم سے بتادیں گے اور ہم غائب نہ تھے۔
{ فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیۡہِمۡ:تو ضرور ہم ان کو بتادیں گے۔} یعنی قیامت میں ہمارا کفار سے اور ان کے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پوچھ گچھ فرمانا قانونی کاروائی کیلئے ہوگا نہ کہ اس لئے کہ ہمیں اصل واقعہ کی خبر نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا کے واقعۂ تہمت میں لوگوں سے دریافت فرمانا امت کی تعلیم کے لئے قانونی کاروائی تھی۔
وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذِ ۣالْحَقُّ ۚ فَمَنۡ ثَقُلَتْ مَوٰزِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ﴿۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اس دن تول ضرور ہونی ہے تو جن کے پلے بھاری ہوئے وہی مراد کو پہنچے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…البقرہ:۱۱۹۔