’’وَ اَنَّ ہٰذَا صِرٰطِیۡ مُسْتَقِیۡمًا فَاتَّبِعُوۡہُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے تو اس پر چلو اور دوسری راہوں پر نہ چلو ورنہ وہ راہیں تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں گی ۔‘‘ (1)
سیدھا راستہ :
اس سے معلوم ہوا کہ عقائد کی درستی، عبادت کی ادائیگی، معاملات کی صفائی اور حقوق کا ادا کرنا سیدھا راستہ ہے۔ جو ان میں سے کسی میں کوتاہی کرتاہے وہ سیدھے راستے پر نہیں۔ عقائد، عبادات اور معاملات جسم اوردو بازوؤں کی طرح ہیں جن میں سے ایک کے بغیر اڑنا ناممکن ہے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ دفتر تین قسم کے ہیں۔ ایک دفتر وہ ہے کہ جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نہ بخشے گا۔ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شریک ٹھہرانا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’ اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اللہ نہ بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے۔
اور ایک دفتر وہ ہے جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ چھوڑے گا نہیں ، وہ بندوں کے آپس کے ظلم ہیں حتّٰی کہ ان کے بعض کا بعض سے بدلہ لے گا اور ایک دفتر وہ ہے جس کی اللہ تعالیٰ پروا نہیں کرتا، وہ بندوں کا اپنے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے درمیان حق تلفی ہے، تو یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد ہے، اگر چاہے اسے سزا دے اور اگر چاہے تو اس سے در گزر فرمائے۔ (3)
{وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ:اور دوسری راہوں پر نہ چلو۔} یہاں دوسرے راستوں سے مرادوہ راستے ہیں جو اسلام کے خلاف ہوں یہودیت ہو یا نصرانیت یا اور کوئی ملت۔ لہٰذا اگر تم اسلام کے خلاف راستے پر چلے تواللہ عَزَّوَجَلَّ کے راستے سے الگ ہوجاؤ گے ۔صوفیاءِ کرام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ فرماتے ہیں کہ معاملات کی خرابی عبادات کی خرابی تک پہنچا دیتی ہے اور عبادات کی خرابی کبھی عقائد کی خرابی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ترک ِمستحب ترک ِسنت کا اور ترک ِسنت ترک ِفرض کا ذریعہ ہے چور کو پہلے دروازے پر ہی روکو۔
ثُمَّ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ تَمَامًا عَلَی الَّذِیۡۤ اَحْسَنَ وَتَفْصِیۡلًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سنن دارمی، باب فی کراہیۃ اخذ الرأی، ۱/۷۸، الحدیث: ۲۰۲۔
2…النساء:۴۸۔
3…شعب الایمان، التاسع والاربعون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۶/۵۲، الحدیث: ۷۴۷۳۔