Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
232 - 558
سے نہیں ٹالا جاتا۔
{ فَاِنۡ کَذَّبُوۡکَ:پھر اگر وہ تمہیں جھٹلائیں۔} یعنی اے محبوب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، ہم نے یہودیوں پر جن چیزوں کے حلال و حرام ہونے کی تمہیں خبر دی، اگریہودی اسے جھٹلائیں تو آپ فرما دو کہ’’ تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ وسیع رحمت والا ہے اسی لئے وہ جھٹلانے والوں کو مہلت دیتا ہے اور عذاب میں جلدی نہیں فرماتا تاکہ انہیں ایمان لانے کا موقع ملے ورنہ بہرحال  جن پر عذاب ِ الٰہی کا فیصلہ ہوجاتا ہے تو ان سے ٹالا نہیں جاتا اور پھر عذاب اپنے وقت پر آہی جاتا ہے۔
سَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اَشْرَکُوۡا لَوْ شَآءَ اللہُ مَاۤ اَشْرَکْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنۡ شَیۡءٍ ؕ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِہِمۡ حَتّٰی ذَاقُوۡا بَاۡسَنَا ؕ قُلْ ہَلْ عِنۡدَکُمۡ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوۡہُ لَنَا ؕ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّاالظَّنَّ وَ اِنْ اَنۡتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوۡنَ ﴿۱۴۸﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اب کہیں گے مشرک کہ اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے نہ ہمارے باپ دادا نہ ہم کچھ حرام ٹھہراتے ایسا ہی ان سے اگلوں نے جھٹلایا تھا یہاں تک کہ ہمارا عذاب چکھا تم فرماؤ کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے کہ اسے ہمارے لیے نکالو تم تو نرے گمان  کے پیچھے ہو اور تم یونہی تخمینے کرتے ہو۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اب مشرک کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اورنہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہی ہم کسی چیز کو حرام قرار دیتے۔ ان سے پہلے لوگوں نے بھی ایسے ہی جھٹلایا تھا یہاں تک کہ ہمارا عذاب چکھا۔ تم فرماؤ، کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے تو اسے ہمارے لئے نکالو۔ تم توصرف جھوٹے خیال کے پیروکار ہو اور تم یونہی غلط اندازے لگا رہے ہو۔
{ سَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اَشْرَکُوۡا:اب مشرک کہیں گے۔} اس میں غیبی خبر ہے کہ مشرک جو آئندہ کہنے والے تھے ، اس سے پہلے ہی خبردار کر دیا۔ مشرکین پر جب حجت تمام ہو گئی اور ان سے کوئی دلیل نہ بن پڑی تو کہنے لگے: اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا