Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
23 - 558
 جو اس کے برے نتائج کودور کرنے پر ہو رہے ہیں ،مثال کے طور پر شراب نوشی کی وجہ سے ہونے والی نفسیاتی اور دیگر بیماریوں کے علاج، نشے کی حالت میں ڈرائیورنگ سے ہونے والے حادثات، پولیس کی گرفتاریاں اور زحمتیں ، شرابیوں کی اولاد کے لئے پرورش گاہیں اور ہسپتال، شراب سے متعلقہ جرائم کے لئے عدالتوں کی مصروفیات، شرابیوں کے لئے قید خانے وغیرہ امور پر ہونے والے اخراجات دیکھے جائیں تو یہ شراب سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کہیں زیادہ نظر آئیں گے اور ا س کے علاوہ کچھ نقصانات تو ایسے ہیں کہ جن کاموازنہ مال و دولت سے کیا ہی نہیں جا سکتا جیسے پاک نسلوں کی تباہی، سستی، بے راہ روی، ثقافت و تمدن کی پسماندگی، احساسات کی موت، گھروں کی تباہی، آرزوؤں کی بربادی اور صاحبانِ فکر افراد کی دماغی صلاحیتوں کا نقصان، یہ وہ نقصانات ہیں جن کی تلافی روپے پیسے سے کسی صورت ممکن ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے اور شراب نوشی کی آفتِ بد سے نجات عطا فرمائے۔
(2)…جوا ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جوئے کا روپیہ قطعی حرام ہے۔ (1)
جوئے کی مذمت میں 2احادیث:
	 احادیث میں جوئے کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے چنانچہ جوئے کے ایک کھیل کے بارے میں حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے نرد شیر (جوئے کا ایک کھیل) کھیلا تو گویا اس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈبو دیا۔ (2)
	اور حضرت ابوعبد الرحمن خطمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص نرد کھیلتا ہے پھر نماز پڑھنے اٹھتا ہے، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو پیپ اور سوئر کے خون سے وضو کرکے نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے۔ (3)
جوئے کے دنیوی نقصانات:
	دینِ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ہر اس عمل اور عادت سے روکا ہے جس سے ان کا مالی اور جسمانی نقصان وابستہ ہو اور وہ انہیں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کردے۔ ایسی بے شمار چیزوں میں سے ایک چیز جو ا بازی ہے جو کہ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…فتاوی رضویہ، ۱۹/۶۴۶۔
2…مسلم، کتاب الشعر، باب تحریم اللعب بالنردشیر، ص۱۲۴۰، الحدیث: ۱۰(۲۲۶۰)۔
3…مسند امام احمد، احادیث رجال من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ۹/۵۰، الحدیث: ۲۳۱۹۹۔