{ وَاحْفَظُوۡۤا اَیۡمٰنَکُمْ: اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔} قسم کی حفاظت کا حکم ہے اور وہ یہ ہے کہ انہیں پورا کرو اگر اس میں شرعاً کوئی حرج نہ ہو اور یہ بھی حفاظت ہے کہ قسم کھانے کی عادت ترک کی جائے۔ (1) (2)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزْلٰمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجْتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿۹۰﴾ ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والوشراب اور جُوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
{ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ: ناپاک شیطانی کام ہیں۔} اس آیتِ مبارکہ میں چار چیزوں کے نجاست و خباثت اور ان کا شیطانی کام ہونے کے بارے میں بیان فرمایا اور ان سے بچنے کا حکم دیاگیا ہے۔وہ چار چیزیں یہ ہیں : (1) شراب۔ (2) جوا ۔(3) اَنصاب یعنی بت ۔(4) اَزلام یعنی پانسے ڈالنا۔ ہم یہاں بالترتیب ان چاروں چیزوں کے بارے میں تفصیل بیان کرتے ہیں۔
(1)… شراب۔ صدرُ الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : شراب پینا حرام ہے اور ا س کی وجہ سے بہت سے گناہ پیدا ہوتے ہیں ، لہٰذا اگر اس کو معاصی (یعنی گناہوں ) اور بے حیائیوں کی اصل کہا جائے تو بجا ہے۔(3)
حضرت معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ شراب ہر گز نہ پیو کہ یہ ہر بدکاری کی اصل ہے۔ (4)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر بغوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۸۹، ۲/۵۱۔
2…قسم کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے رسالہ’’قسم کے بارے میں مدنی پھول‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ بھی مفید ہے۔
3…بہار شریعت، حصہ نہم، شراب پینے کی حد کا بیان، ۲/۳۸۵۔
4…مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث معاذ بن جبل، ۸/۲۴۹، الحدیث: ۲۲۱۳۶۔