کے پاس بھی کو ئی علا ج نہیں اور نہ ہی اس کے بعد کوئی پرہیز اثر کرے گی، اس کے بعد نصیحت کرنے والوں کی نصیحت اور واعظین کا وعظ بھی فائد ہ نہیں دے گا اور اس پر یہ بات ثابت ہو جا ئے گی کہ وہ ہلاک ہونے والوں میں سے ہے۔ (1)(2)
وَلَا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِاسْمُ اللہِ عَلَیۡہِ وَ اِنَّہٗ لَفِسْقٌ ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ لَیُوۡحُوۡنَ اِلٰۤی اَوْلِیَآئِہِمْ لِیُجٰدِلُوۡکُمْ ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوۡہُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُوۡنَ ﴿۱۲۱﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اور اُسے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا اور وہ بیشک حکم عدولی ہے اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہنا مانو تو اس وقت تم مشرک ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ اور بیشک یہ نافرمانی ہے اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں تا کہ وہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہنا مانوگے تو اس وقت تم بھی یقینا مشرک ہوگے۔
{ وَلَا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِاسْمُ اللہِ عَلَیۡہِ:اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ۔} جس جانور پر ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا اس کا کھانا حلال ہے، یہ بیان فرمانے کے بعد اب اس جانور کو کھانے سے منع کیا جا رہا ہے کہ جسے ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر اس پر اللہ تعالیٰ کا نام ذکر نہیں کیا گیا۔ لہٰذا حکم یہ ہے کہ جس جانور پر مسلمان یا کتابی نے جان بوجھ کراللہ تعالیٰ کا نام ذکر نہ کیا وہ حرام ہے اور اگر بھول کر نام لینا رہ گیا تو حلال ہے اور مسلمان و کتابی کے علاوہ کسی دوسرے کا ذبح کیا ہوا مُطْلَقاً حرام ہے۔ یاد رہے کہ یہاں کتابی سے مراد وہ اہلِ کتاب ہیں جو اپنے نبی اور کتاب پر ایمان رکھتے ہیں۔ محض نام کے عیسائی اور حقیقت میں دَہریہ مراد نہیں ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…احیاء العلوم، کتاب التوبۃ، بیان انّ وجوب التوبۃ علی الفور، ۴/۱۰-۱۱۔
2…توبہ کی اہمیت،فضائل اورشرائط وغیرہ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب ’’ توبہ کی روایات و حکایات‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔