حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ اگر کوئی کسی غلط بات پر عمل پیرا ہو اور اسے سمجھایا جائے تو جواب یہی ملتا ہے کہ ہم تو عرصۂ دراز سے یونہی کرتے چلے آ رہے ہیں ،ہم نے تو آج تک کسی کو اس بارے میں کوئی کلام کرتے نہیں سنا، ہمارے بڑے بوڑھے بھی تو یہی کرتے آئے ہیں تم نے دو لفظ کیا پڑھ لئے اب ہمیں بھی سمجھانے لگ گئے، ایسے حضرات کو چاہئے کہ اس آیتِ کریمہ کو سامنے رکھ کر خودغور کرلیں کہ وہ کن کی رَوِش اختیار کئے ہوے ہیں۔
اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ مَنۡ یَّضِلُّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖۚ وَ ہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۱۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون بہکا اس کی راہ سے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ ہدایت والوں کو (بھی) خوب جانتا ہے۔
{ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ:بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے ۔} یعنی کفار جو دوسروں سے فیصلہ کروانے کی بات کرتے ہیں یہ انتہائی نادان ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ لوگوں میں سے گمراہ کون ہے اور حق پر کون ہے اور یہ بھی وہی بہتر جانتا ہے کہ کفار اور مومنین میں سے گمراہی اور ہدایت پر کون ہے اور وہی ان میں سے ہر ایک کو وہ جزا دے گا جس کا وہ مستحق ہے۔ (1)
یعنی مومن حق و ہدایت پر ہیں اور کفار باطل و ضلالت پر۔
فَکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللہِ عَلَیۡہِ اِنۡ کُنۡتُمْ بِاٰیٰتِہٖ مُؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو کھاؤ اس میں سے جس پر اللہ کا نام لیا گیا اگر تم ا س کی آیتیں مانتے ہو ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اس میں سے کھاؤجس پر اللہکا نام لیا گیا اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو۔
{ فَکُلُوۡا:تو کھاؤ۔} یعنی جو جانور اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کیا گیا اسے کھاؤ اور جو اپنی موت مرا یا بتوں کے نام پر ذبح کیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۷، ۲/۱۰۳، روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۷، ۳/۹۲، ملتقتاً۔