Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
188 - 558
(3)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں : رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسونے سے پہلے یہ کہا کرتے تھے ’’اللہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِوَجْہِکَ الْکَرِیْمِ وَکَلِمَاتِکَ التَّامَّۃِ مِنْ شَرِّ مَا اَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہٖ اللہُمَّ اَنْتَ تَکْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَاْثَمَ اللہُمَّ لاَ یُہْزَمُ جُنْدُکَ وَلاَ یُخْلَفُ وَعْدُکَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ‘‘  اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، میں تیری بزرگ ذات اور تیرے مکمل کلمات کی پناہ پکڑتا ہوں اس کے شر سے جسے تو پیشانی سے پکڑنے والاہے ۔اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، تو ہی قرض ادا کرواتا اور گناہوں کو معاف کرتا ہے۔ اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، تیرے لشکر کو شکست نہیں ہو گی اور تیرا وعدہ غلط نہیں ہو گا، تیرے سامنے کسی زور آور کا زور نہیں چلتا۔ تو پاک ہے اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں۔ (1)
وَ اِنۡ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنۡ فِی الۡاَرْضِ یُضِلُّوۡکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ ہُمْ اِلَّا یَخْرُصُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور اے سننے والے زمین میں اکثر وہ ہیں کہ تو ان کے کہے پر چلے تو تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دیں وہ صرف گمان کے پیچھے ہیں اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:اور اے سننے والے! زمین میں اکثر وہ ہیں کہ تو ان کے کہے پر چلے تو تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دیں ، یہ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں اور یہ صرف اندازے لگا رہے ہیں۔
{ وَ اِنۡ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنۡ فِی الۡاَرْضِ: اگر تو زمین میں موجود اکثر لوگوں کی اطاعت کرے۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے شبہات کا جواب دیا پھر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت کے درست ہونے کودلائل کے ساتھ بیان کیا اور اب بیان فرمایا جا رہا ہے کہ جب شبہات زائل ہو گئے اور دلائل بھی واضح ہو چکے تو اب کسی عقلمند کے لئے جائز نہیں کہ وہ جاہلوں کی گفتگو کی طرف توجہ کرے اور نہ ہی ان کے فاسد کلمات کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہو، لہٰذا اے سننے والے! اگر تو زمین میں موجود اکثر لوگوں یعنی کافروں کی غلط باتوں یعنی حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابو داؤد، کتاب الادب، باب مایقول عند النوم، ۴/۴۰۶، الحدیث: ۵۰۵۲۔