و قاضی بنالوں جو میرے اور تمہارے درمیان فصلہ کرے؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے میری نبوت کے حق ہونے کا فیصلہ فرما دیا ہے کہ جب اس نے عاجز کر دینے والی کتاب یعنی قرآنِ پاک مجھ پر نازل فرما دیا تو میری نبوت کے درست ہونے کا فیصلہ بھی ہو گیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فیصلے سے بڑھ کر اور کسی کا فیصلہ نہیں ، لہٰذا اب میری نبوت کا اقرار کرنا ضروری ہے۔(1)
{ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیۡنَ:تو اے سننے والے تو ہر گز شک والوں میں نہ ہو۔} ایک قول یہ ہے کہ یہاں خطاب نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے ہے، اس صورت میں معنی یہ ہوا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ اس بات پر شک کرنے والوں میں نہ ہونا کہ اہلِ کتاب کے علماء جانتے ہیں کہ یہ قرآن حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ اس بات پر شک کرنے والوں میں نہ ہو نا کہ ہم نے آپ کو جو بیان کیا ہے وہ حق ہے یا نہیں۔ یاد رہے کہ اس کا تعلق ان باتوں سے ہے جو کسی کوا بھارنے کے لئے کی جاتی ہیں ورنہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تو شک کر ہی نہیں سکتے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ بظاہر اگرچہ خطاب سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے ہے لیکن مراد ان کا غیر ہے۔ اب معنی یہ ہوا کہ’’ اے قرآنِ پاک کوسننے والے انسان! تو اس بات میں شک نہ کرنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے کیونکہ یہ ایسا عاجز کر دینے والا کلام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور اس جیسا کلام پیش کرنے پر قادر ہی نہیں۔ (2)
وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ ﴿۱۱۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور پوری ہے تیرے رب کی بات سچ اور انصاف میں اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں اور وہی ہے سنتا جانتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور سچ اور انصاف کے اعتبار سے تیرے رب کے کلمات کامل ہیں۔ اس کے کلمات کو کوئی بدلنے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر کبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ۵/۱۲۳-۱۲۴۔
2…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ۲/۴۹۔