ارشاد کیا۔ رب عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
’’ وَقَدْ نَزَّلَ عَلَیۡکُمْ فِی الْکِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللہِ یُکۡفَرُ بِہَا وَیُسْتَہۡزَاُ بِہَا فَلَا تَقْعُدُوۡا مَعَہُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖۤ ۫ۖ اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیۡنَ وَالْکٰفِرِیۡنَ فِیۡ جَہنَّمَ جَمِیۡعَۨا ﴿۱۴۰﴾ۙ ‘‘ (1)
یعنی بے شک اللہ تم پر قرآن میں حکم اتار چکا کہ جب تم سنو کہ خدا کی آیتو ں سے انکار ہوتا اور اُن کی ہنسی کی جاتی ہے تو ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھو جب تک وہ اور باتوں میں مشغول نہ ہوں اور تم نے نہ مانا اور جس وقت وہ اللہ کی آیات پر اعتراض کر رہے ہیں وہاں بیٹھے تو جب تم بھی انہیں جیسے ہو، بیشک اللہ تعالیٰ منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔
دیکھو قرآن فرماتا ہے ،ہاں تمہارا رب رحمن فرماتا ہے جو ایسے جلسوں میں جائے ایسی جگہ کھڑا ہو وہ بھی انہیں کافروں آریوں پادریوں کی مثل ہے
آہ آہ حرام تو ہر گناہ ہے یہاں تو اللہ واحد قہار یہ فرما رہا ہے کہ وہاں ٹھہرے تو تم بھی انہیں جیسے ہو۔ مسلمانو! کیا قرآنِ عظیم کی یہ آیات تم نے منسوخ کردیں یا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اس سخت وعید کو سچا نہ سمجھے یا کافروں جیسا ہونا قبول کرلیا۔ اور جب کچھ نہیں تو اُن جمگھٹوں کے کیا معنی ہیں جو آریوں پادریوں کے لکچروں نداؤں پر ہوتے ہیں اُن جلسوں میں شرکت کیوں ہے جو خدا، رسول اور قرآن پر اعتراضوں کیلئے کئے جاتے ہیں۔ بھائیو! میں نہیں کہتا قرآن فرماتا ہے کہ ’’ اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُہُمْ ‘‘ تم بھی ان ہی جیسے ہو۔‘‘ اُن لکچروں پر جمگھٹ والے اُن جلسوں میں شرکت والے سب اُنہیں کافروں کے مثل ہیں ، وہ علانیہ بک کر کافر ہوئے یہ زبان سے کلمہ پڑھیں اور دل میں خدا، رسول اورقرآن کی اتنی عزت نہیں کہ جہاں اُن کی توہین ہوتی ہو وہاں سے بچیں تو یہ منافق ہوئے جب تو فرمایا کہ اللہ اُنہیں اور اِنہیں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا کہ یہاں تم لکچر دو اور تم سنو۔
مسلمان اگر قرآنِ عظیم کی اس نصیحت پر عمل کریں تو ابھی ابھی دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے سب بازار ٹھنڈے ہوئے جاتے ہیں ، ملک میں ان کے شور وشر کا نشان نہ رہے گا ،جہنم کے کندے شیطان کے بندے آپس ہی میں ٹکرا ٹکرا کر سر پھوڑیں گے، اللہ، رسول اور قرآنِ عظیم کی توہینوں سے مسلمانوں کا کلیجا پکانا چھوڑیں گے، اور اپنے گھر بیٹھ کر بکے بھی تو مسلمانوں کے کان تو ٹھنڈے رہیں گے۔ (2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…النساء:۱۴۰۔
2…فتاوی رضویہ، ۱/۷۸۱-۷۸۵، ملخصاً۔