اور سنئے، اس کے بعد کی آیات میں فرماتا ہے:
’’ اَفَغَیۡرَ اللہِ اَبْتَغِیۡ حَکَمًا وَّہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکُمُ الۡکِتٰبَ مُفَصَّلًا ؕ وَالَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعْلَمُوۡنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنۡ رَّبِّکَ بِالْحَقِّ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾ وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ ﴿۱۱۵﴾ وَ اِنۡ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنۡ فِی الۡاَرْضِ یُضِلُّوۡکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ ہُمْ اِلَّا یَخْرُصُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ مَنۡ یَّضِلُّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖۚ وَ ہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۱۷﴾ ‘‘ (1)
تو کیا اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا ڈھونڈوں حالانکہ اُس نے مفصل کتاب تمہاری طرف اُتاری اور اہلِ کتاب خوب جانتے ہیں کہ وہ تیرے رب کے پاس سے حق کے ساتھ اُتری تو خبردار تو شک نہ کرنا اور تیرے رب کی بات سچ اور انصاف میں کامل ہے کوئی اُس کی باتوں کا بدلنے والا نہیں اور وہ شنوا و دانا ہے اور زمین والوں میں زیادہ وہ ہیں کہ تو ان کی پیروی کرے تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکا دیں وہ تو گمان کے پیرو ہیں اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بہکے گا اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو۔‘‘
یہ تمام آیاتِ کریمہ انہیں مطالب کے سلسلہ بیان میں ہیں گویا ارشاد ہوتا ہے تم جو اُن شیطان آدمیوں کی باتیں سننے جاؤ کیا تمہیں یہ تلاش ہے کہ دیکھیں اس مذہبی اختلاف میں یہ لکچرار یا یہ منادی کیا فیصلہ کرتا ہے، ارے خدا سے بہتر فیصلہ کس کا! اُس نے مفصل کتاب قرآنِ عظیم تمہیں عطا فرما دی اُس کے بعد تم کو کسی لکچر، ندا کی کیا حاجت ہے لکچر والے جو کسی دینی کتاب کا نام نہیں لیتے کس گنتی شمار میں ہیں ! یہ کتاب والے دل میں خوب جانتے ہیں کہ قرآن حق ہے (مگر) تَعَصُّب کی پٹی (ان کی) آنکھوں پر بندھی ہے کہ ہٹ دھرمی سے مکرے جاتے ہیں تو تجھے کیوں شک پیدا ہو کہ اُن کی سننا چاہے، تیرے رب کا کلام صدق وعدل میں بھرپور ہے کل تک جو اُس پر تجھے کامل یقین تھا آج کیا اُس میں فرق آیا کہ اُس پر اعتراض سننا چاہتا ہے کیا خدا کی باتیں کوئی بدل سکتا ہے، یہ نہ سمجھنا کہ میرا کوئی مقال (یعنی قول)، کوئی خیال خدا سے چھپ رہے گا، وہ سنتا جانتا ہے، دیکھ اگر تونے اُن کی سنی تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکا دیں گے، (اے نادان!تو) کیا یہ خیال کرتا ہے کہ ان (گمراہ لوگوں ) کا علم دیکھوں (کہ) کہاں تک ہے، یہ کیا کہتے ہیں ارے اُن کے پاس علم کہاں وہ تو اپنے اوہام کے پیچھے لگے ہوئے اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں جن کا تھل نہ بیڑا ،جب اللہ واحد قہار کی گواہی ہے کہ اُن کے پاس نری مہمل اٹکلوں کے سوا کچھ نہیں تو اُن کو سننے کے کیا معنی؟ سننے سے پہلے وہی کہہ دے جو تیرے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الانعام:۱۱۴،۱۱۷۔