Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
18 - 558
اَیَّامٍ ؕ ذٰلِکَ کَفّٰرَۃُ اَیۡمٰنِکُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ ؕ وَاحْفَظُوۡۤا اَیۡمٰنَکُمْ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ ﴿۸۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پرہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یا انہیں کپڑے دینا یا ایک بردہ آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرواسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ تمہیں تمہاری فضول قسموں پرنہیں پکڑے گا البتہ ان قسموں پر گرفت فرمائے گا جنہیں تم مضبوط کر لو تو ایسی قسم کاکفارہ دس مسکینوں کو اس طرح کا درمیانے درجے کا کھانا دینا ہے جوتم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا اُن دس کوکپڑے دینا ہے یا ایک مملوک (غلام یا لونڈی) آزاد کرناہے تو جو نہ پائے تو تین دن کے روزے  یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر گزار ہوجاؤ۔
{ لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللہُ بِاللَّغْوِ فِیۡۤ اَیۡمٰنِکُمْ:اللہتمہیں تمہاری فضول قسموں پرنہیں پکڑے گا ۔}اس سے پہلی آیت میں بیان ہوا کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی ایک جماعت نے کھانے پینے کی چند حلال چیزیں اور کچھ لباس اپنے اوپر حرام کر لئے اور دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی، مزید یہ کہ اس پر انہوں نے قسمیں بھی کھا لیں۔جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اس چیز سے منع کیا تو انہوں نے عرض کی:یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، اب ہم اپنی قسموں کا کیا کریں ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس میں قسم کے احکام بیان کئے گئے۔ (1)
قسم کی اقسام:
	قسم کی تین قسمیں ہیں :
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر کبیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۸۹، ۴/۴۱۸-۴۱۹۔